
ماہ رمضان ختم ہونے سے قبل حج کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا، غیر یقینی کی وجہ سے رواں برس اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کافیصلہ کیاہے، وزارت مذہبی امور انڈونیشیا
پاکستان میں رواں سال حج آپریشن کا آغاز 25 جون کو ہوگا، عازمین کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ اخراجات میں 25 سے 40 فیصد اضافہ بھی متوقع
جکارتہ (نیوز ڈیسک) سعودی حکومت اب تک حج سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرسکی اسی غیر یقینی کے باعث دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا نے حج پروگرام منسوخ کردیا جبکہ پاکستان میں 25 جون سے حج آپریشن کا آغاز متوقع ہے،تفصیلات کے مطابق حج میں دو ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے لیکن سعودی حکام اب تک فیصلہ نہیں کرسکے کہ رواں سال حج کی اجازت دی جائے یا نہیں،انڈونیشیا کی وزارت مذہبی امور کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے ختم ہونے سے قبل حج کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا لیکن بار بار نشاندہی کے باوجود سعودی حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا، اسی غیر یقینی کی وجہ سے رواں برس اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کافیصلہ کیاہے،ہمارے لیے یہ فیصلہ کرنا انتہائی مشکل تھا اور ہم جانتے ہیں کہ کئی شہری دلبرداشتہ ہوں گے،ہم امید کرتے ہیں کہ حج ہونے یا منسوخ ہونے سے متعلق باضابطہ فیصلے کا اعلان جلد کیا جائے گا ،واضح رہے کہ انڈونیشیا کے سب سے زیادہ 2 لاکھ 31 ہزار شہری حج کیلئے رجسٹرڈ کرواتے ہیں جو کسی بھی ملک کی جانب سے سب سے بڑی نمائندگی ہے،ادھر پاکستان میں رواں سال حج آپریشن کا آغاز 25 جون کو متوقع ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے وزارت مذہبی امور کو سعودی عرب کی وزارت حج سے کوئی ہدایت نہیں ملی، عازمین حج کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ اخراجات میں 25 سے 40 فیصد اضافہ بھی متوقع ہے ،وزارت مذہبی امور نے سرکاری حج سکیم کے تحت ایک لاکھ سات ہزار عازمین حج کی قراندازی کررکھی ہے ۔


































