
واشنگٹن: امریکہ نے فلسطینی صدر محمود عباس کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے مسلسل دوسرے سال ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا۔ محمود عباس کے علاوہ کئی فلسطینی عہدیداروں کو بھی ویزے جاری نہیں کئے گئے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے حکام اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے اراکین پر ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ جس کے باعث فلسطینی صدر محمود عباس اگلے ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کیلئے نیویارک نہیں جاسکیں گے۔ محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ اصلاحات لانے میں ناکامی، امریکہ سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی اور امن امکانات کو نقصان پہنچانے والی مسلسل سرگرمیوں کے نتیجے میں ویزے پر پابندی میں توسیع کی گئی ہے.
محکمہ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی براہِ راست مذاکرات کے متبادل کے طور پر آزاد فلسطینی ریاست کی بین الاقوامی شناخت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہے۔ اور اس نے اسرائیل کے ساتھ تنازع کو بین الاقوامی عدالتوں میں لے جانے کا اقدام کیا۔ محمود عباس کے نمائندے نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے منافی قرار دیا ہے.


































