
نیویارک: اقوام متحدہ میں ایرانی نمائندے سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک خط میں یمن کے حوالے سے امریکی الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ خط میں انہوں نے لکھا ہے کہ ایران پر لگائے گئے الزامات امریکہ کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ ہیں تاکہ یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف جاری جارحیت کی پردہ پوشی اور اسے قانونی جواز فراہم کیا جا سکے۔ امریکی نمائندے نے ایک بار پھر سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کرتے ہوئے یمن کی صورتحال پر ایران کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے۔ سعید ایروانی نے مزید لکھا کہ ایران ان الزامات کو امریکہ کی طرف سے یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے خلاف جاری جارحیت کی پردہ پوشی اور قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش سمجھتا ہے۔ یہ حقیقت واضح ہوچکی ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کے ماہرین پر مینڈیٹ سے سمجھوتہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ کا یہ تخریبی اور غیر ذمہ داری پر مبنی رویہ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی آزادی کو مجروح کرتا ہے۔ انہوں لکھا کہ ایران نے سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ یمن کے بحران پر ایران کی پالیسی واضح ہے۔ ایران سفارتی ذرائع سے یمن کے بحران کے پرامن حل پر زور دیتا ہے اور سمندری سیکورٹی اور آزاد جہاز رانی کی تاکید کرتا ہے۔ اس کے باوجود، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یمن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو پامال کرکے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کے ذمہ دار ہیں۔ امریکہ دیگر خودمختار ریاستوں پر الزام لگا کر اپنی تمام سنگین خلاف ورزیوں پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔


































