
Oplus_16908288
تحریر: قبس زعفرانی
ایسے وقت میں جب واشنگٹن کے بعض سیاسی حلقے اور خود ٹرمپ، حزب اللہ لبنان پر دباؤ ڈالنے کے لیے جولانی کی حکومت کو استعمال کرنے کے خیال کا اظہار کر رہے ہیں، یہ منظرنامہ ایک قابلِ عمل حکمتِ عملی سے زیادہ ایک واضح غلط اندازہ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ ایسا اقدام نہ صرف حزب اللہ کو کمزور کرنے میں ناکام ہو سکتا ہے بلکہ اس کے برعکس حزب اللہ کی پوزیشن کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ مزید برآں، یہ صورتِ حال محورِ مقاومت کے لیے ایک نیا موقع بھی فراہم کر سکتی ہے تاکہ وہ شام کو دوبارہ اپنے دائرۂ اثر اور مزاحمتی محور میں واپس لے آئے۔
رپورٹس کے مطابق، بعض امریکی فیصلہ ساز حلقوں میں یہ خیال زیرِ بحث آیا ہے کہ شام میں جولانی حکومت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حزب اللہ پر فوجی اور سکیورٹی دباؤ میں اضافہ کیا جائے، بلکہ تصادم کے میدان کو لبنان کے جنوبی اور جنوب مشرقی علاقوں کے اندر تک منتقل کر دیا جائے۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ ایک نیابتی فریق (جولانی) کو فعال بنا کر حزب اللہ کے لیے اخراجات اور دباؤ میں اضافہ کیا جا سکتا ہے اور لبنان میں مزاحمتی نیٹ ورک کو قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ تاہم، یہ تجزیہ حد سے زیادہ سادہ لوحانہ ہے اور لبنان کی پیچیدہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لبنان کوئی ایسا خطی فوجی میدان نہیں ہے جہاں معاملات کو آسانی سے ایک محاذ سے دوسرے محاذ تک منتقل کیا جا سکے، بلکہ یہ ایک نہایت حساس فرقہ وارانہ، تاریخی اور جغرافیائی-سیاسی توازن کا حامل ملک ہے، جہاں معمولی بیرونی مداخلت بھی اس توازن کو بکھیر سکتی ہے اور ملک کو ایک ایسے غیر قابو شدہ بحران کے بھنور میں دھکیل سکتی ہے جس کے نتائج دور رس اور غیر متوقع ہوں۔
سرحدوں سے ماورا کردار ادا کرنے کے لیے جولانی کی خواہش:
دوسری جانب، احمد الشرع (سابق ابو محمد الجولانی) کی قیادت میں قائم نئی شامی حکومت، بعض سرکاری احتیاطوں کے باوجود، ایسے سیاسی دباؤ اور ترغیبات کا سامنا کر رہی ہے جن کا مقصد اسے حزب اللہ کے خلاف دباؤ بڑھانے کے منصوبے میں ایک آلہ کار بنانا ہے۔ دمشق میں بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس منصوبے میں شمولیت، عائد پابندیوں میں نرمی اور کسی حد تک بین الاقوامی جواز و قبولیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ کیونکہ حکومتِ اسد کے سقوط اور نئی حکومت کے قیام کو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود، اور تمام تر وعدوں کے برعکس، نہ تو پابندیوں میں کوئی نمایاں کمی آئی ہے اور نہ ہی جولانی کے ماضی کے حوالے سے علاقائی اور عالمی سطح پر پائی جانے والی بداعتمادی میں کوئی سنجیدہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ لہٰذا، یہ معاملہ جولانی کے لیے ایک نہایت پرخطر سودا ثابت ہو سکتا ہے۔ لبنان کے معاملے میں مداخلت نہ تو اسے کوئی خاص سیاسی فائدہ پہنچائے گی اور نہ ہی استحکام فراہم کرے گی، بلکہ اس کے برعکس یہ خود جولانی اور اس کے حامیوں کے لیے ایک نئی سکیورٹی دلدل پیدا کر سکتی ہے۔
شام کے بارے میں لبنان کا زخم جو اب بھی تازہ ہے:
اس منظرنامے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک لبنان کے معاشرے کی تاریخی یادداشت ہے۔ لبنان میں شامی فوج کی طویل موجودگی (1976ء تا 2005ء) آج بھی معاشرے کے مختلف طبقات کے ذہنوں میں ایک بھاری سیاسی اور سکیورٹی مداخلت کے تجربے کے طور پر محفوظ ہے۔ ایسے ماحول میں، شامی افواج کی واپسی کا محض امکان خصوصاً اگر وہ ایسے گروہوں کی صورت میں ہو جو شدت پسند ڈھانچوں سے وابستہ ہوں اور جن کا ماضی تکفیری سرگرمیوں سے منسلک سمجھا جاتا ہو، لبنان کے داخلی ماحول کو تیزی سے دھماکہ خیز بنا سکتا ہے۔ اس کا ممکنہ نتیجہ کیا ہوگا؟ فرقہ وارانہ تقسیم کی خلیج مزید گہری ہو جائے گی، ملک وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا، اور لبنان ایک نئے داخلی بحران کے دور میں داخل ہو سکتا ہے۔
سکیورٹی کا تضاد، وہ ضرب جو مزاحمت کے حق میں جاتی ہے:
اس منظرنامے کا بنیادی تضاد یہی ہے کہ جتنا زیادہ بیرونی دباؤ بڑھے گا، لبنان کے اندر حزب اللہ کی پوزیشن اتنی ہی مضبوط ہوتی جائے گی۔ ایسے حالات میں، جب اس جماعت کے خلاف اقتصادی اور سیاسی دباؤ پہلے ہی جاری ہے، کسی براہِ راست بیرونی خطرے کا ظہور پورے توازن کو حزب اللہ کے حق میں بدل دے گا۔ اس صورت میں حزب اللہ محض ایک داخلی سیاسی اور عسکری قوت نہیں رہے گی، بلکہ اسے "بیرونی جارحیت کے مقابلے میں دفاع کی پہلی صف” کے طور پر ازسرِ نو متعارف کرایا جائے گا۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کے تمام حسابات الٹ جاتے ہیں؛ کیونکہ مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، ایسا دباؤ اسے لبنان کے معاشرے کے وسیع تر طبقات میں سکیورٹی اتفاقِ رائے اور قومی دفاع کے محور میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اعتماد کا فقدان، جولانی کا اب تک حل نہ ہونے والا مسئلہ:
جولانی حکومت کی ممکنہ موجودگی کو ایک اور زیادہ سنگین رکاوٹ کا سامنا ہے، اور وہ ہے اعتماد کا گہرا بحران۔ لبنان کی عوامی رائے میں جولانی کا نام اب بھی اس کے ماضی کے سکیورٹی پس منظر اور تکفیری دہشت گرد گروہوں سے وابستگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتیٰ کہ حزب اللہ کے مخالفین بھی لبنان کی سرزمین پر ایسے کسی کردار کے داخل ہونے کو مثبت نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ منظرنامہ نہ صرف حزب اللہ کے خلاف کوئی قومی اتفاقِ رائے پیدا نہیں کر سکتا، بلکہ اس کے برعکس بیرونی مداخلت کی مخالفت میں ایک کم از کم قومی اتفاقِ رائے کو جنم دے سکتا ہے۔ اور اس کا مطلب ایک بار پھر یہی ہے کہ داخلی سیاسی معادلے میں مزاحمت اور حزب اللہ کی پوزیشن مزید مضبوط ہو جائے گی۔
ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطی، ایک پیچیدہ بحران کو حد سے زیادہ سادہ سمجھنا:
حزب اللہ پر دباؤ بڑھانے کے لیے جولانی حکومت کے ممکنہ کردار سے متعلق بیانات اور تجزیے درحقیقت امریکی خارجہ پالیسی کی ایک کلاسیکی غلطی کی عکاسی کرتے ہیں، یعنی اس کو ایک کثیرالجہتی اور پیچیدہ بحران کو سادہ اور یک رخا سمجھنا۔ لبنان نہ تو ایسا میدان ہے جسے محض عسکری انجینئرنگ کے ذریعے ازسرِ نو ترتیب دیا جا سکے، اور نہ ہی یہ ایک سیدھا سادہ سکیورٹی معاملہ ہے۔ یہ ملک تاریخ، فرقہ وارانہ ساخت، اجتماعی یادداشت اور علاقائی طاقت کے توازن جیسے عناصر کے ایک نہایت پیچیدہ اور باہم پیوستہ جال سے تشکیل پاتا ہے۔ ایسے میں، ایک نئے عسکری کردار کو خصوصاً ایسا کردار جس کا ماضی تنازعات اور دہشت گردی کے الزامات سے بھرا ہوا ہو، ان پیچیدگیوں کو سمجھے بغیر میدان میں اتارنا، عملاً بحران کو قابو کرنے کے بجائے اسے مزید وسیع، گہرا اور ناقابلِ کنٹرول سطح تک پہنچا سکتا ہے۔
نتیجہ:
حالیہ پیش رفتوں کا مجموعی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ لبنان میں جولانی کی مداخلت کا منظرنامہ، اس کے منصوبہ سازوں کے اعلانیہ اہداف کے برعکس، کم از کم چار براہِ راست اور یقینی نتائج کا حامل ہوگا:
اوّل: بیرونی خطرات کے مقابلے میں مزاحمت کے بیانیے کو تقویت ملے گی اور حزب اللہ کی سیاسی و سماجی مشروعیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
دوم: لبنان کے نازک اور حساس ڈھانچے میں موجود تاریخی اور فرقہ وارانہ تقسیم مزید بھڑک اٹھے گی، جس سے ملک میں عدم استحکام میں اضافہ ہوگا۔
سوم: جولانی حکومت، جو پہلے ہی داخلی چیلنجوں اور جوازِ حکمرانی کے بحران سے دوچار ہے، مزید کمزور اور فرسودہ ہو جائے گی۔
چہارم: بحران کی آگ شام کے اندر منتقل ہو سکتی ہے۔ لبنان کے معاملے میں جولانی کی مداخلت، مزاحمت کو کمزور کرنے کے بجائے، خود اس کے خلاف شام کے اندر نئے مزاحمتی مراکز کے قیام کا سبب بن سکتی ہے۔ علوی اکثریتی ساحلی علاقوں سے لے کر دیگر ناراض خطوں تک، مختلف حلقے اس بیرونی مہم جوئی کو داخلی مسائل کے حل میں حکومت کی ناکامی کی علامت سمجھ سکتے ہیں۔
مزید وسیع تزویراتی سطح پر اس منظرنامے کا ایک اور اہم نتیجہ بھی سامنے آتا ہے، اور وہ ہے محورِ مقاومت کے لیے غیر ارادی طور پر نئے مواقع کی فراہمی۔ جتنا زیادہ بیرونی مداخلت کا دائرہ وسیع ہوگا، اتنا ہی مزاحمت کمزور ہونے کے بجائے لبنان کے معاشرے کے مزید طبقات کے نزدیک قومی سلامتی کے واحد قابلِ اعتماد فریم ورک کے طور پر اپنی حیثیت مستحکم کرتی جائے گی۔ آخرکار، خطے کے تجربات ایک واضح پیغام دیتے ہیں، جہاں بھی سیاسی تدبر اور عقل کی جگہ مداخلت کی منطق نے لے لی، وہاں نتیجہ استحکام نہیں بلکہ بحران کا دھماکہ خیز پھیلاؤ رہا ہے۔ لبنان بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اس بار بھی غلط تزویراتی اندازوں کی قیمت اگرچہ لبنان کی سرحدوں سے کہیں آگے تک جا سکتی ہے، تاہم اس کے ممکنہ فوائد حزب اللہ اور محورِ مقاومت کے حق میں جا سکتے ہیں۔


































