
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے قبل انٹیلی جنس اور فوجی حکام کی اہم انتباہ نظر انداز کردیے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اعلیٰ امریکی حکام نے صدر ٹرمپ کو ایران جنگ کے سنگین نتائج سے خبردار کیا تھا۔ سابق ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کے قتل سے زیادہ سخت گیر حکومت آ سکتی ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش تیز کر دے گی۔ انٹیلی جنس حکام نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کر سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈی شدید متاثر ہوگی۔ اعلیٰ فوجی حکام نے جنگ کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت، ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی اور فوجی تیاری متاثر ہونے کے خطرات سے بھی آگاہ کیا تھا۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے 28 فروری کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔


































