
تحریر: علی رضا محمدی
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان ردوبدل ہونے والے پیغامات میں لفظ "کینسر” کا بار بار دہرائے جانا ثابت کرتا ہے کہ ان دونوں میں خاص قسم کی ہم آہنگی اور ہمسوئی پائی جاتی ہے اور وہ مغربی ایشیا خطے میں ایک انتہائی خطرناک منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ کچھ دہائیاں پہلے جب امام خمینی رح نے اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کو "سرطانی غدے” کا نام دیا تھا تو صیہونی حکمران عملی طور پر "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے پر کاربند تھے اور ایک پھیلتے ہوئے سرطانی غدے کی مانند مقبوضہ سرزمینوں کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایک استعماری منصوبہ ہے جس کا مقصد مشرق وسطی خطے پر قبضہ جمانا ہے۔ آج جب چند عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان ابراہیم معاہدے پر بھی دستخط ہو چکے ہیں، گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بدستور آگے بڑھ رہا ہے۔
خطے میں کئی عشروں سے جاری اسرائیل کی سازشوں اور مجرمانہ اقدامات کے بعد اب ٹرمپ اور نیتن یاہو، دو جنگی مجرم ایران کو "کینسر” کا نام دے رہے ہیں۔ یہ وہی دو افراد ہیں جنہوں نے لبنان اور ایران میں جنگ بندی سے متعلق ایک دوسرے سے دھینگا مشتی جاری کر کے دنیا والوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی تھی کہ ان میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ ان کے درمیان ایران کے لیے یہ لفظ استعمال کرنے میں اس ہم آہنگی کے کئی پہلو ہیں جن میں سے چند اہم درج ذیل ہیں:
باتوں میں اختلاف اور عمل میں تعاون
جب سے ڈونلڈ ٹرمپ دوسری بار امریکہ کا صدر منتخب ہوا ہے، مختلف ذرائع ابلاغ میں بارہا ایران سے متعلق اس کے اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات کا تذکرہ ہوتا آیا ہے۔
ٹرمپ نے حتی صدارتی الیکشن میں فتح یاب ہونے سے محض تین دن پہلے جیفری ساکس کا وہ ویڈیو کلپ اپنے سوشل میڈیا اکاونٹ پر جاری کیا جس میں کہا گیا تھا: "نیتن یاہو حرام زادہ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیلنا چاہتا ہے۔” اس ٹوئٹ کے چند ماہ بعد ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کا آغاز ہو گیا اور ٹرمپ نے اسرائیل کی واضح طور پر حمایت کر کے ثابت کر دیا کہ وہ کس حد تک "نیتن یاہو کے حرام زادے” ہونے میں اس کا ساتھ دے رہا ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو میں ظاہری لڑائی اور تکرار اس کے بعد بھی جاری رہی جس کی تازہ ترین مثال لبنان میں جنگ بندی برقرار کرنے اور ایران سے مفاہمتی یادداشت میں لبنان میں جنگ بندی کو پہلی شق میں شامل کرنے پر دونوں میں بظاہر اختلاف تھا۔
اگرچہ ٹرمپ اور کچھ حد تک جے ڈی وینس نے صیہونی حکمرانوں پر تنقید کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا لیکن آخرکار ان دو جنگی مجرموں نے باہمی تعاون جاری رکھا اور حتی "کینسر” جیسے الفاظ چننے میں بھی ایک دوسرے سے ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ایران کے علاقائی اتحادیوں پر حملہ
امریکہ نے ایران پر بارہا یہ بے بنیاد الزام عائد کیا ہے کہ اس نے خطے میں پراکسی گروہ تشکیل دے رکھے ہیں جبکہ خطے میں موجود اسلامی مزاحمتی بلاک مکمل طور نظریاتی گروہوں پر مشتمل ہے جنہوں نے ایران میں رونما ہونے والے اسلامی انقلاب کو اپنا رول ماڈل بنایا اور غاصبانہ قبضے اور استعماری طاقتوں کے خلاف مسلح جدوجہد کا راستہ اپنایا ہے۔
امریکہ نے کئی سال سے خطے بھر میں متعدد منصوبے شروع کر رکھے ہیں جن کا مقصد لبنان سے لے کر عراق اور فلسطین تک اسلامی مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا ہے۔ یہ مزاحمتی گروہ ایران میں اسلامی انقلاب رونما ہونے سے پہلے بھی موجود تھے لیکن اسلامی انقلاب نے انہیں نئی روح عطا کی اور ان کی بھرپور حمایت کی جو اسلامی اصولوں اور اقدار پر مبنی تھی۔ اب امریکی اور صیہونی دشمن انہیں ایران کی پراکسی قرار دے رہا ہے۔ وہ ایران کو ایسا "کینسر” کہہ رہے ہیں جو پورے خطے میں پھیل چکا ہے جبکہ اصل کینسر وہ خود ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے الفاظ کے چناو میں بھی جارحانہ رویہ اپنا رکھا ہے۔ ان کی جانب سے ایران کو کینسر کہنے سے ان کے اصل عزائم واضح ہوتے ہیں جو خطے میں اسلامی مزاحمتی گروہوں پر حملوں پر مشتمل ہیں۔
بھرپور آمادگی کی ضرورت
امریکہ اور اسرائیل واضح طور پر ایران کو پوری طرح ختم کر دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ترک صدر اردگان سے ملاقات کے دوران کہا: "یہ (ایرانی) شرپسند اور بیمار افراد ہیں اور ہمیں ان کے کینسر کو ختم کرنا پڑے گا۔ وہ کینسر اور آپ جانتے ہیں کیا کر رہے ہیں؟ کنیسر کو جلد از جلد ختم کر دیں۔” صرف ایک دن بعد نیتن یاہو نے ٹرمپ کی بات دہراتے ہوئے کہا: "ایران پر حملہ آپ کے جسم سے کینسر ختم کرنے کے مترادف ہے، اگر کینسر کو ختم نہیں کریں گے تو مر جائیں گے۔” وہ ایران اور اسلامی مزاحمتی سوچ کو مکمل طور پر ختم کر دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک شیطانی منصوبہ ہے جس کی روشنی میں ایران کو اپنی حکمت عملی اور شاید دفاعی ڈاکٹرائن پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔


































