
ویٹی کن سٹی : مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بحرانوں اور حادثات کے بارے میں اس قدر بے حس ہوتی جا رہی کہ اب رونما ہونے والے بحرانوں کا بہت کم ہی نوٹس لیاجاتا ہے۔کرسمس کےدن اپنےپیغام میں پوپ فرانسس نے شام، عراق اور یمن کی طرف اشارہ کیا کہ اتنے بڑے بڑے المیے جن کو ہر کسی نے نظر انداز کیا اور وہ خاموشی سے کئی سال سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے تنازعات، جھگڑوں اور بحرانوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا اختتام ہوتا نظر نہیں آتا اور ہم اب ان پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ ہم اس صورت حال کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ بڑے بڑے حادثات خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔ ہم اپنے لاتعداد بھائیوں اور بہنوں کے دکھ درد اور پکار کو نہ سننے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ انھوں نے لوگوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین اور اسرائیل کے تنازعہ کو ذہن میں رکھیں اور لبنان میں معاشی اور سماجی بحران سے بھی غافل نہ ہوں جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ بین الاقوامی سطح پر مذاکرات سے گریز کرنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ یہ پیچیدہ بحران عارضی حل کی طرف لے جائے گا اور تنازعات کو حل کرنے کے لیے مشکل اور طویل راستہ اختیار کرنے سے لوگ گریز کرنے لگیں گے۔ پوپ فرانسس نے کووڈ کی عالمی وبا کے بارے میں کہا کہ اس وبا کا اثر یہ پڑا ہے کہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کے لیے بھی اقوام عالم کا عزم کمزور پڑ گیا ہے۔ لوگوں میں اپنی جان چھڑانے کا رحجان بڑھ رہا ہے بجائے اس کے وہ مل کر آگے آئیں اور صورت حال کا مقابلہ کریں۔


































