
تہران : ایران نے اعلان کیا کہ وہ طالبان کی موجودہ حکومت کو اس وقت تک تسلیم نہیں کرے گا جب تک کہ وہ افغانستان کے تمام طبقات کی نمائندہ نہیں ہوگی۔ کابل میں ایرانی سفیر بہادر امینیان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر طالبان اپنے حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات لاتے ہیں تو تہران دوسرے ممالک کو افغان حکومت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کر سکتا ہےانہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی گروہ اقتدار میں آتا ہے اور وہ ایک نسلی گروہ پر مشتمل ہے اور باقی تمام نسلی طبقات حکومت میں شامل نہیں ہیں تو ہم اسے قبول نہیں کرسکتے۔ اس لیے ہم طالبان کو ایک جامع حکومت بنانے پر زور دیتے ہیں ۔انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ معاشی بحران انتہا پسندی کی راہ ہموار کرے گا اور افغانستان میں داعش کو پھلنے پھولنے کا موقع دے گا۔ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ اگر معاشی مسائل برقرار رہے تواس سے مزید لوگوں کی نقل مکانی ہوگی اور اگر اقتصادی مسائل برقرار رہے تو یہ انتہا پسندی کی طرف لے جائے گا جو نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کو بھی خطرے میں ڈالے گا.


































