
لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ مجھ پر مقدمات کا منصوبہ تیار ہوگیا۔ کچھ بھی کرلو ڈیل نہیں کروں گا، امریکا سے دوستی چاہتا ہوں، غلامی نہیں، امپورٹڈ حکومت کو فارغ کرنے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ لاہور کے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں جشن آزادی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ قائداعظم نے کہا تھا ہم انگریز کی غلامی سے نکل کر ہندوؤں کی غلامی میں نہیں جانا چاہتے، غلامی کی 4 قسمیں ہیں، جس میں ذہنی غلامی بھی شامل ہے۔ میں ان کی مخالفت اس لیے کرتا ہوں کہ انہوں نے مشرف کو دھمکی دی کہ جنگ میں شرکت نہیں کی تو وہ پاکستان کو تباہ کردیں گے اس وقت جنرل مشرف گھٹنے ٹیک گیا اور قوم نے بھاری قیمت ادا کی۔ مغرب کے لوگوں کی جب آپ چمچہ گیری کریں گے تو وہ آپ کی عزت نہیں کریں گے لیکن اگر اپنے ملک کے مفادات کے لیے کھڑے ہوں گے تو ان کو اچھا نہیں لگے گا تاہم وہ آپ کی عزت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع کہہ رہا ہے امریکا نے ہمیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا ہے، جب چاہیں کھینچ لے اور ہم مرجائیں گے تو اس نوبت تک کون لے کر آیا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی آزادی کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ امپورٹڈ حکومت کو ہم فارغ نہیں کرتے اور الیکشن نہیں کرواتے ہم مل کر اس ملک میں جدوجہد کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشرے میں سب سے زیادہ تباہی پھیلانے والی غلامی انصاف کی عدم فراہمی ہے اور انصاف کی فراہمی سے معاشرہ آزاد حیثیت میں اٹھتا ہے، جب تک انصاف نہیں دیں گے اپنے لوگوں کو آزادی نہیں دے سکتے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سازش کا منصوبہ بنایا ہے کہ عمران خان کےخلاف الیکشن کمیشن میں توشہ خانہ اور ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بناؤ اور کسی طرح نااہل کرکے ادھر سے نواز شریف کو بلاؤ اور پھر کہو عمران خان کو لڑنے دیں گے اور نواز شریف پر پابندی ہٹادو،جو بھی یہ سازش کر رہا ہے کان کھول کر سن لو عمران خان کوئی ڈیل نہیں کرنے لگا، میرا مقابلہ اس ڈاکو سے نہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ سازش یہ ہے کہ نواز شریف کو ستمبر کے آخر میں لانے کی کوشش ہے، انہوں نے کہا کہ نواز شریف فکر نہیں کرو میں تمہارا بہت اچھی طرح استقبال کروں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری سازش ہے کہ عمران خان کے اوپر کیسز کرو، کردار کشی کرو، لفافہ والے ٹی وی اسٹیشن، پیسے لے کر ضمیر بیچنے والے، ان کے ذریعے عمران خان کی کردار کشی کرو، برا بھلا کرو اور نااہل کرو اور وہ ٹی وی چینل جو عمران خان کا مؤقف پیش کرے اس کو بند کرو۔انہوں نے کہا کہ اس سے بھی خوف ناک چیز یہ ہے کہ ہماری عدلیہ کو تقسیم کرنے کی سازش چل رہی ہے تاکہ عدلیہ سے مرضی کے فیصلے لیے جائیں، میڈیا کا منہ بند کرو، عدالتوں کو تقسیم کرو، ملک میں خوف پھیلاؤ اور چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کرو جو بیرونی ایجنڈا ہے۔


































