Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

حلیف سے حریف بننے کی وجہ

تحریر: مرتضیٰ مکی

کینیڈا کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج نے ٹرمپ کو اہم پیغام دے دیا ہے۔ مارک کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی کی جیت نہ صرف ملک کی سیاسی قیادت میں تبدیلی کی علامت ہے بلکہ کینیڈا-امریکہ تعلقات اور کینیڈینوں کی قومی شناخت کے حوالے سے ایک سنگین امتحان بھی ہے۔ یہ انتخابات سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات سے متاثر ہو کر کینیڈا کی آزادی اور علاقائی سالمیت پر ریفرنڈم بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس الیکشن میں لبرل پارٹی کی جیت کینیڈا کے سیاسی ماحول میں ہونے والی گہری تبدیلیوں اور غیر ملکی خطرات کے خلاف عوامی ردعمل کی عکاسی کرتی ہے۔

انتخابات نے واضح طور پر ظاہر کیا ہے کہ ایک غیر ملکی رہنماء کی پالیسیاں دوسرے ملک میں انتخابات کے نتائج کو کس طرح متاثر کرسکتی ہیں، البتہ اس نے بیرونی دباؤ کے باوجود قومی تشخص کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ کینیڈا کے پارلیمانی انتخابات غیر معمولی ماحول میں ہوئے، بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات نے انہیں متاثر کیا ہے۔ لبرل پارٹی ہاؤس آف کامنز میں 343 میں سے 169 سیٹیں جیت کر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ یہ وہ وقت ہے، جب کنزرویٹو پارٹی، اہم حریف کے طور پر صرف 144 نشستیں جیت سکی۔ کینیڈا کو 55 ویں ریاست کے طور پر منوانے کے ٹرمپ کے تبصرے اور امریکہ پر کینیڈا کے معاشی انحصار کے امریکیوں کے دعوے نے کینیڈا کے قومی اتحاد کو مضبوط کرنے میں مدد دی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق جسٹن ٹروڈو کا استعفیٰ اور مارک کارنی کا لبرل پارٹی کا نیا سربراہ منتخب ہونا ایک نئی پیشرفت ہے۔ ٹرمپ کے تبصرے انتخابی راستے کو تبدیل کرنے اور کنزرویٹو پارٹی کی مقبولیت کو کم کرنے کے ایک عنصر کے طور پر سامنے آئے۔ البتہ نئی حکومت کی قومی اتحاد کو برقرار رکھنے اور تجارتی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی صلاحیت کا امتحان ہے۔ کارنی کی قیادت میں لبرل پارٹی کی جیت نہ صرف کینیڈا کی ملکی سیاست میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ بیرونی خطرات اور سیاسی دباؤ پر عوامی ردعمل کی علامت بھی ہے۔

یہ انتخاب واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ایک غیر ملکی رہنماء کس طرح کسی ملک کی قومی شناخت اور ملکی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ اس سلسلے میں، کارنی کو امریکہ پر انحصار کم کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرتے ہوئے آگے بڑھنے والے اقتصادی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان انتخابات کے نتائج کے بعد یہ کہا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کی نافہمی اور سیاسی تکبر نے کینیڈا کو امریکی حلیف سے امریکی حریف بنا دیا ہے۔ ٹرمپ کے سو دنوں کا پہلا نتیجہ کینیڈا میں ٹرامپ مخالف موقف رکھنے والوں کی انتخابی جیت ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular