Thu Oct 08, 2026

ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی آبنائے ہرمز کھلی رہے گی یا بند، اس کا فیصلہ ٹرمپ کی کھوکھلی پوسٹس نہیں کریں گی ریاض میں ایئرپورٹ پر حملے، 3 افراد ہلاک، 36 زخمی امریکا فوجی جنگ کی طرح اقتصادی جنگ میں بھی ناکام ہوگا، محسن رضائی اسرائیل کیجانب سے غزہ میں نسل کشی کے 3 سال مکمل، ہرطرف تباہی و بربادی ایران کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں نمایاں کمی کرنا ہوگی، امریکی نائب صدر جے ایران کیخلاف کارروائیوں میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیاروں کو نقصان پہنچا: رپورٹ

روزانہ کی خبریں

حسنِ خُلق کا معنی

حسنِ خُلق کا معنی

آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی فرماتے ہیں:

"حسنِ خُلق کا مطلب صرف خوش روی، مسکرانا اور خوش اخلاقی کے ظاہری پہلو نہیں ہے، اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ فائدہ مند ہیں۔ لیکن حسنِ خُلق کبھی یہ بھی ہے کہ انسان دانت پر جگر رکھے اور مشکل کو برداشت کرے۔

اگر کسی باطل چیز کی طرف انسان کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ صبر و استقامت کے ساتھ حق کو ترک نہ کرے اور باطل کو چھوڑ دے۔ امام علیؑ کے کلمات میں آیا ہے:
سب سے بہترین خُلق یہ ہے کہ انسان حق پر ڈٹے رہتے ہوئے صبر اور بردباری کرے۔

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی چھوٹا سا حادثہ پیش آتا ہے اور وہ صبر کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیتا ہے۔ یہاں اگرچہ اصل کام یہ ہے کہ انسان حق کے مقابل باطل کو برداشت نہ کرے، لیکن یہ کام بظاہر مشکل اور سخت ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر: اگر کوئی ہلکا سا بوجھ اٹھائے تو اس میں زیادہ دشواری نہیں، لیکن اگر ایک عام انسان بھاری بوجھ اٹھانا چاہے تو وہ سخت اور طاقت فرسا ہوتا ہے، جس کے لیے بہت زیادہ صبر و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کو "تَصَبُّر” کہا گیا ہے؛ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ کمال صبر سے کام لے تاکہ یہ بوجھ منزلِ مقصود تک پہنچا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انسان جلدی غصہ میں آ جاتا ہے، حق کو چھوڑ دیتا ہے اور باطل کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں "تَصَبُّر” نہیں ہوتا، یعنی وہ بھاری بوجھ اٹھانے والا صابر و بردبار نہیں ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular