حسنِ خُلق کا معنی
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی فرماتے ہیں:
"حسنِ خُلق کا مطلب صرف خوش روی، مسکرانا اور خوش اخلاقی کے ظاہری پہلو نہیں ہے، اگرچہ یہ بھی اپنی جگہ فائدہ مند ہیں۔ لیکن حسنِ خُلق کبھی یہ بھی ہے کہ انسان دانت پر جگر رکھے اور مشکل کو برداشت کرے۔
اگر کسی باطل چیز کی طرف انسان کو دعوت دی جائے تو اسے چاہیے کہ صبر و استقامت کے ساتھ حق کو ترک نہ کرے اور باطل کو چھوڑ دے۔ امام علیؑ کے کلمات میں آیا ہے:
سب سے بہترین خُلق یہ ہے کہ انسان حق پر ڈٹے رہتے ہوئے صبر اور بردباری کرے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کے ساتھ کوئی چھوٹا سا حادثہ پیش آتا ہے اور وہ صبر کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر لیتا ہے۔ یہاں اگرچہ اصل کام یہ ہے کہ انسان حق کے مقابل باطل کو برداشت نہ کرے، لیکن یہ کام بظاہر مشکل اور سخت ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر: اگر کوئی ہلکا سا بوجھ اٹھائے تو اس میں زیادہ دشواری نہیں، لیکن اگر ایک عام انسان بھاری بوجھ اٹھانا چاہے تو وہ سخت اور طاقت فرسا ہوتا ہے، جس کے لیے بہت زیادہ صبر و حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی کو "تَصَبُّر” کہا گیا ہے؛ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ کمال صبر سے کام لے تاکہ یہ بوجھ منزلِ مقصود تک پہنچا سکے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات انسان جلدی غصہ میں آ جاتا ہے، حق کو چھوڑ دیتا ہے اور باطل کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں "تَصَبُّر” نہیں ہوتا، یعنی وہ بھاری بوجھ اٹھانے والا صابر و بردبار نہیں ہے۔


































