
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہےکہ جنرل سلیمانی کی شہادت کا امریکا کیلئے برعکس نتیجہ نکلا اور ایران کی شان کھل کر سامنے آگئی۔ قم میں شاہ ایران پہلوی کے خلاف عوامی بغاوت کی سالگرہ کے موقع پر خطاب میں ولی امر مسلمین نے کہا کہ امریکا کے غلط حسابات ابھی تک جاری ہیں اور اس کی مثال شہید سلیمانی کی شہادت ہے۔ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف عظیم کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کو ایران کے لیے خطرہ سمجھا لیکن ایرانی عوام نے اپنے مذہبی جوش و جذبے سے اسے ایک موقع میں بدل کردیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس شہید کو ختم کرنے سے ایرانی قوم کی عظیم تحریک ختم ہو جائے گی، لیکن ہم نے اس سال ان کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر ہونے والی زبردست تحریک کو دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک کے پیچھے کون تھا؟ یہ خدائی طاقت کا کام اور ہاتھ تھا جس نے اس بڑی تحریک اور اظہار عقیدت کو جنم دیا۔ انہوں نے کہا کہ دشمنوں کا کمپیوٹنگ سسٹم یقینی طور پر سست اور خراب ہے اور وہ اسلامی جمہوریہ کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے اور اس طرح وہ غلط فیصلے کرتے ہیں اور ناکام رہتے ہیں، اور اب سے وہ دوبارہ ناکام ہوں گے۔ ولی امر مسلمین نے کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا کی گہری دشمنی ایرانی عوام کے مذہبی جوش کی وجہ سے ہے۔ اس مذہبی جوش کو برقرار رکھیں۔ مختلف آزمائشوں میں ملک کو بچانے کا عنصر ایرانی قوم کا مذہبی جذبہ ہے۔ مذہبی جوش ہی خطرات کو مواقع میں بدل دیتا ہے۔


































