
دی ہیگ : بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکہ، جرمنی اور جنوبی افریقہ سمیت اٹھارہ ممالک اور چالیس تنظیموں کو اسرائیل اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ جاری کرنے پر دلائل جمع کرانے کی اجازت دیدی۔ تمام فریق چھ اگست تک دستاویزات جمع کراسکتے ہیں۔ ان ملکوں کے یہ دلائل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کے اس مؤقف کے تناظر میں ہوں گے جس میں انہوں نے ماہ مئی میں عدالت سے یہ درخواست کی تھی کہ عدالت اسرائیلی وزیراعظم سمیت دونوں فریقوں کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کرنے کے لیے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرے۔ فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کا موقف ہے کہ معقول وجوہات موجود ہیں کہ نیتن یاہو اور اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ بھی حماس کے عسکری کمانڈر یحییٰ السنوار، محمد المسری اور سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ کی طرح کے انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا مقدمہ چل سکے۔ برطانیہ نے ایک درخواست دائر کی ہے کہ کیا فوجداری عدالت کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع کے جنگی جرائم کی بنیاد پر وارنٹ گرفتاری جاری کر سکے۔ کیونکہ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل فوجداری عدالت کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔ بعض ملکوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان کی مذمت کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ ان ملکوں میں امریکہ، جرمنی اور ہنگری شامل ہیں۔ ان ملکوں کا مؤقف ہے کہ کریم خان کی بطور پراسیکیوٹر فوجداری عدالت یہ مطالبہ کرنا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو جن کی فوج نے اب تک تقریباً 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جن میں بڑی تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے، ان کے وارنٹ جاری کرنا قابل مذمت ہے۔


































