
نیویارک : اقوام متحدہ نے واضح کیا ہے کہ دوحہ کانفرنس میں افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق کوئی بات نہیں ہو گی۔ دوحہ میں تیس جون سے افغانستان سے متعلق اجلاس کا تیسرا دور ہورہا ہے۔ جس میں طالبان رہنما پہلی بار شرکت کریں گے۔ پاکستان نے بھی کانفرنس میں اپنا وفد بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ اجلاس میں پچیس ممالک کے نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ اقوام متحدہ نے اس اجلاس کو عبوری حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کرنے کا عمل قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجار نے میڈیا کو بتایا کہ تیسری دوحہ میٹنگ کا انعقاد اور افغان عبوری حکومت کے وفد سے ملاقات کا مطلب ان کی رسمی شناخت نہیں ہے۔ میٹنگ طالبان کے نہیں بلکہ افغانستان اور لوگوں کے بارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ان کے کنٹرول میں ہے لہذا ہمیں افغانستان کے مسائل کے حل کیلئے ان سے ملنا ہوگا۔


































