
دوحہ : ایران امریکا جنگ کو چھ ماہ مکمل ہوگئے لیکن کوئی فریق فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ جنگ کی طوالت نے خلیجی عرب ریاستوں کو شدید معاشی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران امریکا جنگ اب فیصلہ کن مرحلے کے بجائے طویل کشمکش اور معاشی دباؤ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران میں حکومت کے خاتمے کے امکانات نظر نہیں آتے جبکہ واشنگٹن بھی واضح فتح حاصل کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ نے خلیجی عرب ریاستوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بنا دیا ہے۔ جس سے عالمی توانائی اور تجارت متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق موجودہ صورتحال نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی معیشتوں میں غیر یقینی بڑھا دی ہے۔ عرب ریاستیں ایک طرف امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات برقرار رکھنا چاہتی ہیں تو دوسری جانب ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی کر رہی ہیں۔ خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا چیلنج امریکا کے ساتھ دفاعی شراکت داری برقرار رکھنے اور ایران کے ساتھ کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنے کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ اور آبنائے ہرمز کا بحران مزید طول پکڑتا ہے تو خلیجی ریاستوں کو اپنے معاشی اور سلامتی کے مفادات کے حوالے سے مزید مشکل فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔


































