
کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کو کراچی منتقل کرنے کا حکم دے دیا۔سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ کے روبرو دعا زہرا کی بازیابی سے متعلق والد مہدی کاظمی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ ظہیر کو حفاظتی تحویل میں عدالت پہنچایا گیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے آبزرویشن دی کہ لڑکی کم عمر ثابت ہوچکی ہے۔ اس کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں۔ بظاہر لڑکی اپنے شوہر سےبھی ناخوش ہے اور ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ والدین سے بھی خوفزدہ ہے اسلئے شیلٹر ہوم میں رکھنا مناسب ہے۔اغوا سے متعلق ٹرائل کورٹ ہی حتمی فیصلہ کرے گی۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ دعا زہرا کو کراچی منتقل کرنے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔ مقدمہ کراچی کی ٹرائل کورٹ میں زیر التوا ہے۔ دعا زہرا مقدمے کا مرکزی کردار ہے اس کی کراچی میں موجودگی ضروری ہے۔ ملزم کے وکیل نے ظہیر اور اس کے بھائیوں کے منجمد اکاؤنٹس کھولنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ اور ہدایت کی کہ الگ سے درخواست دائر کی جائے۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے مرکزی ملزم ظہیر احمد اور شبیر کی 25 جولائی تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے ملزمان کو ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔


































