
کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے عالمی ادارے کی حتمی رپورٹ ہماری ٹیم کی تحقیقات کے برعکس تھی، حقائق، نتائج اور تجزیوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا،آئن ہینڈرسن
دوما سے ملنے والے دو پراسرار سلنڈرز کے تجزیے سے یہ ثابت ہواتھا کہ انہیں جائے حملہ پر کسی طرح سے پہنچایا گیا تھا، سلامتی کونسل میں بیان
نیویارک(نیوزڈیسک)کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے عالمی ادارے کے سابق رکن نے شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے کے جھوٹ کو کچاچٹھا کھول دیا، سلامتی کونسل میں بریفنگ کے دوران او پی سی ڈبلیو کے سابق آفیسرآئن ہینڈرسن نے تسلیم کیا کہ دوما میں کیمیائی ہتھیار استعمال نہیں ہوئے، ادارے کی حتمی رپورٹ ہماری ٹیم کی تحقیقات کے برعکس تھی، رپورٹ میں حقائق، نتائج اور تجزیوں کو نظر انداز کر دیا گیا تھا،انہوں نے کہا کہ شام کے شہر دوما سے ملنے والے دو پراسرار سلنڈرز کے تجزیے سے یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ کیمیائی مواد استعمال نہیں ہوا اور نہ ہی سلنڈرز جہاز سے گرے تھے بلکہ یہ جائے حملہ پر کسی طرح سے پہنچائے گئے تھے،کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ شام میں خانہ جنگی کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں تاہم اب تحقیقاتی ٹیم کے ممبر نے ہی ان دعوؤں کی نفی کر دی ہے، امریکا برطانیہ اور فرانس نے اس بے بنیاد دعوے کے ایک ہفتے کے بعد ہی چودہ اپریل2018کو شام کے علاقے دوما کے غوطہ شرقی پر ایک سو سے زائد میزائل فائر کئے تھے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا جب شامی فوج نے اس علاقے کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرالیا تھا۔


































