Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

شہید رئیسی اور بیرونی دورہ جات

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

ایران کے مرحوم صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی نے اپنے دور صدارت کے 34 ماہ کے دوران 28 غیر ملکی دورے کیے اور اس عرصے میں انہوں نے پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات کی ترقی اور سیاسی تعلقات کی مضبوطی کو اپنی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے 63 سالہ صدر آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی 3 اگست 2021ء سے 19 مئی 2024ء تک 1,019 دنوں تک حکومت کے سربراہ رہے۔ انہوں نے اپنے آخری سفر میں "قیز قلعه‌سی” ڈیم کا افتتاح کیا۔ اپنے آخری سفر میں انہوں نے ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کی سرحد پر الہام علیوف سے ملاقات کی۔ اس سفر کی واپسی کے دوران ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہوگئے۔ سید ابراہیم رئیسی نے 23 ممالک کے کل 28 غیر ملکی دورے کئے۔ اس عرصے میں انہوں نے دو بار تاجکستان، دو بار روس، دو بار ترکمانستان، دو بار ازبکستان اور دو بار اقوام متحدہ کا سفر کیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آٹھویں صدر کے غیر ملکی دوروں کے ریکارڈ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کا زور اور ترجیح پڑوسی ممالک بالخصوص وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

تاجکستان
سید ابراہیم رئیسی کا پہلا غیر ملکی دورہ صدارتی انتخابات کے صرف ایک ماہ بعد تاجکستان کا تھا۔ یہ سفر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی 8 دستاویزات پر دستخط اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کے تعارف کا باعث بنا اور یہ ان کے پہلے غیر ملکی سفر میں ایک اہم کامیابی تھی۔

ترکمانستان
تین ماہ بعد، دسمبر 2021ء میں، وہ ترکمانستان کے دارالحکومت اشک آباد گئے، اور ای سی او سربراہی اجلاس کے موقع پر، انہوں نے 1.5 سے 2 بلین کیوبک میٹر گیس کی سالانہ مالیت کے ساتھ سہ فریقی گیس سویپ معاہدے پر دستخط کیے، جس کی بنیاد پر ایرانی گیس ترکمانستان سے جمہوریہ آذربائیجان کو منتقل کی جائے گی۔

روس کا پہلا سفر
صدر رئیسی نے روس کا پہلا دورہ جنوری 2022ء میں کیا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے ماسکو میں ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی اور اس سفر کے دوران توانائی، بینکنگ، ٹرانزٹ اور سکیورٹی کے شعبوں میں وسیع پیمانے پر اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ابراہیم رئیسی نے مارچ کے دوسرے اور تیسرے دن تین روز کے لیے قطر کا سفر کیا، یہ سفر اوپیک گیس کے معاملے کے ساتھ خطے میں خاص اہمیت کا حامل تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے آٹھویں صدر کے غیر ملکی دوروں کے ریکارڈ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی خارجہ پالیسی کا زور اور ترجیح پڑوسی ممالک بالخصوص وسطی ایشیا کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

عمان
تین ماہ بعد آیت اللہ رئیسی خلیج فارس کے ساحل پر واقع دوسرے ملک عمان گئے۔ اس سفر کے دوران انہوں نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق السعید کو ایران کے مخلص اور قابل اعتماد دوست کے طور پر متعارف کرایا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مسائل کے حل کے بارے میں اقتصادی کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔

ترکمانستان اور ازبکستان
ابراہیم رئیسی کے غیر ملکی دوروں کی اگلی منزلیں ترکمانستان اور ازبکستان تھے۔ انہوں نے 29 جون 2022ء کو ترکمانستان کا سفر کیا اور اسی سال ستمبر کو اپنی صدارت کے آغاز سے ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوسری بار شنگھائی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ازبکستان کا سفر کیا، جس سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شمالی پڑوسیوں کے ساتھ تعاون کو مضبوط بنانے کو اہمیت دیتے تھے۔ اس سفر کے دوران ہی شنگھائی تنظیم میں ایران کی مکمل رکنیت کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے ازبکستان، کرغزستان، روس، چین، ترکی، تاجکستان، قازقستان کے صدور اور ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم سے 11 ملاقاتیں کیں، جس کے نتیجے میں ان ممالک اور ایران کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون سے متعلق دستاویزات اور معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

آیت اللہ رئیسی کا نیویارک کا پہلا دورہ
اس علاقائی ممالک دورے کے اختتام کے دو دن بعد ستمبر 2022ء کو ابراہیم رئیسی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے پہلی بار نیویارک گئے، اس سفر میں انھوں نے فرانس، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ، سربیا کے صدور اور بولیویا، زمبابوے، جاپان، پاکستان، لبنان، عراق اور آرمینیا کے وزرائے اعظم سے ملاقاتین کیں۔ اقوام متحدہ کی 77ویں جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں، "شہید قاسم سلیمانی” کے قتل کے خلاف احتجاج میں، انہوں نے اقوام متحدہ کے ہال میں "شہید قاسم سلیمانی” تصویر اٹھا رکھی تھی، اس تقریر میں انہوں نے ایران کے خلاف مغربی پابندیوں کی ناکامی پر زور دیا تھا۔ 34 ماہ میں آیت اللہ رئیسی کے 28 غیر ملکی دوروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران کے دنیا کے ساتھ تعلقات کا فروغ ان کی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح رہی۔

قازقستان
ایران کے مرحوم صدر شہید آیت اللہ ابراہیم رئیسی کا اگلا سفر 22 دن بعد نیویارک سے ایران کے شمالی پڑوسی قازقستان کا تھا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے قطر کے امیر اور جمہوریہ آذربائیجان کے صدر سے ملاقات کی اور الہام علیوف سے کہا کہ ہم جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔

چین
آیت اللہ رئیسی کا 2021ء کا آخری غیر ملکی دورہ چین کا تھا، جو ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ وہ 13 فروری کو بیجنگ کے تین روزہ دورے پر گئے تھے۔ اس سفر کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کرائسز مینجمنٹ، انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، میڈیا، تجارت، دانشورانہ املاک، ثقافتی ورثے اور بحران کے انتظام کے مختلف شعبوں میں 20 تعاون کی دستاویزات اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔

شام
13 مئی 2023ء کو ایران کے مرحوم صدر شام کے دارالحکومت دمشق گئے اور بشار الاسد سے ملاقات کی۔ شام کی جنگ کے بحران کے بعد ایران کے صدر کا یہ پہلا دورہ تھا۔ اس سفر کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تیل اور توانائی، تجارت اور زیارت کی سہولت کے مختلف شعبوں میں تعاون کی 14 دستاویزات پر دستخط ہوئے۔

انڈونیشیا
آیت اللہ رئیسی کے غیر ملکی دورے کی اگلی منزل مشرقی ایشیا تھی۔ مئی 2023ء کو وہ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ گئے۔ اس سفر کے دوران تجارت، سائنس اور ٹیکنالوجی، ثقافتی تبادلے، منشیات کی پیداوار، تیل اور گیس کے مختلف شعبوں میں تعاون کی 11 دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

لاطینی امریکہ؛ وینزویلا، نکاراگوا اور کیوبا
ایران کے صدر جون 2023ء میں لاطینی امریکہ گئے اور اس مہینے کی 22 سے 26 تاریخ تک وہ وینزویلا، نکاراگوا اور کیوبا گئے۔ وینزویلا اور کیوبا میں ایران کی نالج بیسڈ کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور ڈالرائزیشن کے میدان میں تعاون اور امریکہ کے تسلط اور اثر و رسوخ کو کم کرنا نیز ایران کے خلاف پابندیوں کے اثرات کو کم کرنا ان ممالک کے سربراہوں کے ساتھ بات چیت کے موضوعات میں شامل تھے۔

افریقہ؛ کینیا، یوگنڈا، زمبابوے، جنوبی افریقہ
تین ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد آیت اللہ رئیسی 21 اور 22 جولائی کو افریقہ گئے اور اس دو روزہ دورے میں تین ممالک کینیا، یوگنڈا اور زمبابوے کے تجارتی اور اقتصادی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے گئے۔ اس سفر کے دس دن بعد، شہید رئیسی جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کی سرکاری دعوت پر دوبارہ افریقہ گئے، جہاں اس بار انہوں نے جوہانسبرگ میں 15ویں برکس سربراہی کانفرنس میں شرکت کی۔ اس ملاقات میں برکس (ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں) میں ایران کی باضابطہ رکنیت پر اتفاق کیا گیا۔

نیویارک کا دوسرا سفر
18 ستمبر 2023ء کو وہ دوسری بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک گئے۔ اس چار روزہ سفر کے دوران آیت اللہ رئیسی نے تنظیم کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں کہا "دنیا کو امریکی بنانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے اور وہ مغربی مکتب جو دنیا کے لیے نمونہ بننا چاہتا تھا، اب عبرت بن چکا ہے اور اس راستے کا اختتام قریب ہے۔”

تاجکستان اور ازبکستان کا دوسرا دورہ
جمہوریہ ایران کے صدر 17 اور 18 نومبر 2023ء کو دوسری بار تاجکستان اور ازبکستان گئے۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ECO میں انہوں نے اقتصادی تعاون تنظیم کے 16ویں اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے اس ملاقات میں کہا کہ ایران ای سی او کی ترقی کے لیے مزید وسائل اور توانائی کو متحرک کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

سعودی عرب
آیت اللہ رئیسی کا سعودی عرب کا تاریخی دورہ، جو 7 سال بعد چین کی ثالثی سے ممکن ہوا، 2023ء میں ایران کے مرحوم صدر کے اہم ترین غیر ملکی دوروں میں سے ایک تھا۔ 20 نومبر کو وہ غزہ جنگ کے بارے میں اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے ریاض گئے اور اس سفر کے دوران انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات اور گفتگو کی۔ اس ملاقات میں دونوں طرف سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر تاکید کی گئی۔ آیت اللہ رئیسی کا 7 سال بعد سعودی عرب کا تاریخی دورہ ایران کے اہم ترین غیر ملکی دوروں میں سے ایک تھا۔ اس سفر میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیا گیا۔

روس
7 دسمبر 2023ء کو آیت اللہ رئیسی دوسری مرتبہ روس کے دارالحکومت ماسکو گئے۔ انہوں نے ولادیمیر پوتن کے ساتھ ملاقات میں کہا: ایران اور روس کے درمیان توانائی، زراعت اور سائنسی سرگرمیوں کے شعبوں میں اچھا تعاون ہے اور مزید اہم اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔ رئیسی نے مزید کہا: اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ پوری انسانیت کے لیے ایک چیلنج ہے اور غزہ پر بمباری کو جلد از جلد بند کیا جانا چاہیئے۔ پیوٹن نے یہ بھی اعلان کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تبادلوں کا حجم پانچ بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

ترکی
ایران کے صدر کا اگلا دورہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ کا تھا۔ آیت اللہ رئیسی دسمبر 2023ء کو ترکی گئے۔ اس سفر کے دوران تہران اور انقرہ کے درمیان تعاون کی دس دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔

الجزائر
آیت اللہ رئیسی کا اگلا غیر ملکی دورہ 2023ء میں الجزائر کے دارالحکومت الجزائر کا تھا۔ اس سفر کے دوران انہوں نے گیس برآمد کرنے والے ممالک کی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی اور قطر، تیونس، موزمبیق، عراق اور بولیویا کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔

پاکستان
آیت اللہ رئیسی کا اگلا غیر ملکی دورہ پاکستان کا تھا۔ وہ 22 سے 24 اپریل تک پاکستان کئے، جہاں انہوں نے اسلام آباد اور پھر لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ اس سفر کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دس بلین ڈالر کی تجارت کے امکان کے ساتھ 8 تعاون کی دستاویزات پر دستخط کیے گئے اور دونوں ممالک کی سرحدوں کی حفاظت پر زور دیا گیا۔

سری لنکا
24 اپریل کو ایران کے صدر مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی ترقی کے مقاصد کے ساتھ اپنے آخری غیر ملکی دورے میں پاکستان سے سری لنکا گئے۔ ایک روزہ دورے پر انہوں نے اس ملک میں کثیر المقاصد ڈیم اور پاور پلانٹ "اومااویا” کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور سری لنکا کے صدر رانیل وکرما سنگھے کے ساتھ مل کر ایران کی تکنیکی انجینئرنگ خدمات کے بڑے منصوبوں میں سے ایک کا افتتاح کیا۔

ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے درمیان سرحد اور سفر آخرت
آیت اللہ رئیسی اپنے آخری تجارتی سفر میں ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کی سرحد پر گئے اور آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے دریائے ارس کے کنارے سرحدی مقام پر ملاقات کی۔ آخری تقریب میں انہوں نے کہا تھا "قیز قلعه‌سی” ڈیم علاقے میں ترقی کی علامت اور دونوں ممالک اور ایران اور آذربائیجان کی دو قوموں کے باہمی تعاون کو وسعت دینے کے عزم کی علامت ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular