
بغداد سے لیکر کرمان تک ہر طرف انسانوں کا اژدھام،سڑکیں،گلیاں سیاہ پوشوں سے بھر گئیں، محافظ ولایت کے آخری سفر میں شرکا کے انتقام انتقام، امریکا مردہ باد اور اسرائیل کے خلاف نعرے
نمازجنازہ ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے پڑھائی، اسلام کے عظیم سپہ سالار جنرل قاسم سلیمانی کی میت ان کے آبائی شہر کرمان لائی گئی تو پورا شہر امڈ آیا
تہران(نیوز ڈیسک) امریکی حملے میں شہید قاسم سلیمانی کے جنازے میں ایران اور عراق کی سڑکیں گلیاں سیاہ پوشوں سے بھرگئیں،لاکھوں افراد نے جلوس جنازہ میں شرکت کی،بینرز،پوسٹرز اور تصاویر اٹھائے شرکا انتقام انتقام، امریکا مردہ باد اوراسرائیل کے خلاف نعرے لگاتے رہے، شہید قاسم سلیمانی،مہدی المہندس اور دوسرے شہدا کی پہلی نماز جنازہ عراق کے شہر بغداد میں ادا کی گئی جس میں عراقی صدر ووزیراعظم،فوجی اور سول حکام،وزرا،سیاسی ومذہبی رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی، اس کے بعد میت ہزاروں افراد کے جلوس میں امام موسیٰ کاظم ؑکے مزار پر کاظمین لائی گئی،یہاں بھی لوگوں کا سیلاب امڈ آیا،شہدا کے جسد خاکی نجف لائے گئے تو آیت اللہ بشیر نجفی نے نماز جنازہ پڑھائی،نجف کے بعد میتیں کربلا پہنچیں تو سوگواروں کا اژدھام جمع ہوگیا،سیاہ پوشوں سے گلیاں اور سڑکیں بھرگئیں،عراق کے بعد پہلے میتیں اہواز پہنچیں تو لاکھوں افراد اپنے ہیروکے آخری سفر کیلئے نکل آئے،بارہ کلومیٹر سے زیادہ طویل جلوس جنازہ میں شریک افراد ماتم اور سینہ کوبی کرتے رہے،شہید قاسم سلیمانی اور شہید مہدی المہندس کے جسد خاکی مشہد اور پھر تہران لائے گئے جہاں ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے نماز جنازہ پڑھائی، جلوس جنازہ اور آخری رسومات میں لاکھوں سوگواروں کے ہمراہ ملک کی اعلی سول اور فوجی شخصیات بھی شریک ہوئی،تہران میں نمازجنازہ کے موقع پر پورا شہر سیاہ پوش ہوگیا ہر طرف سر ہی سر دکھائے دے رہے تھے،لاکھوں افراد نے جنازہ میں شرکت کرکے انہیں انتہائی جذباتی انداز میں الوداع کہا،تہران کے بعد میت قم اور پھر قاسم سلیمانی کی میت آبائی شہر کرمان لائی گئی تو پورا شہر امڈ آیا، گلیوں،سڑکوں،پہاڑوں ہر طرف شہید کے چاہنے والے ہی دکھائی دے رہے تھے، لاکھوں سوگوار انہیں جذباتی انداز میں الوداع کہہ رہے ہیں اور ان کے جنازے میں شریک ہوئے، جلوس جنازہ میں اژدھام کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جس سے 40افراد جاں بحق اور دو سو کے قریب زخمی ہوگئے،جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں اور زخمی ہونے والے افراد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا،اس افسوسناک واقعہ کی وجہ سے تدفین موخر کردی گئی،بعد میں شہید کو کرمان کے شہدا کے قبرستان ” گلزارشہدا” میں سپرد لحد کردیا گیا۔


































