
ریاض : سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکان کو مسترد کردیا۔ ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو سمٹ سے خطاب میں شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہاکہ سعودی حکومت امریکا کے ساتھ جن دوطرفہ معاہدوں پر بات چیت کر رہی ہے ان کا اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ممکنہ سعودی امریکی معاہدے کسی تیسرے فریق سے منسلک نہیں ہیں اور غالباً بہت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جڑیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں ہیں۔ جب تک فلسطینی ریاست کے حوالے سے کوئی قرارداد نہیں آتی سعودی اسرائیل تعلقات کو معمول پر لانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فلسطینی ریاست کو بلا تاخیر اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل ہونی چاہیے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے شہزادہ فیصل نے عندیہ دیا کہ حالیہ بات چیت علاقائی تناؤ پر مرکوز ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایران ہماری طرح صرف لبنان میں ہی نہیں، تمام محاذوں پر علاقائی کشیدگی میں کمی کے لیے کام کر رہا ہے۔


































