
Palestinians line up for a free meal in Rafah, Gaza Strip, Friday, Feb. 16, 2024. International aid agencies say Gaza is suffering from shortages of food, medicine and other basic supplies as a result of the war between Israel and Hamas. (AP Photo/Fatima Shbair)
جنیوا : عالمی اداروں نے غزہ میں جلد ہی شدید قحط پھیلنے کا خطرہ ظاہر کردیا۔ گلوبل فوڈ سیکیورٹی کے ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ غزہ جہاں اسرائیلی محاصرہ مسلسل جاری ہے اور جنگ بھی 14 ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کے شمالی حصوں میں بطور خاص قحط کا خطرہ ہے۔ اسرائیل غزہ میں انسانی بنیادوں پر خوراک، پانی اور دیگر انتہائی بنیادی اشیائے ضروریہ کی ترسیل ممکن بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
قحط کو غیر جانبداری سے مانیٹر کرنے والی انڈیپینڈنٹ فیمین ریویو کمیٹی ایف آر سی نے بھی غزہ کے شمالی حصوں میں قحط کے بڑے خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ قحط کی حدیں پہلے ہی عبور کرلی گئی ہیں یا پھر عنقریب عبور کرلیں گی۔
انروا کے سربراہ فلپ لازاراینی نے شمالی غزہ میں قحط کا خطرہ انسان کا پیدا کردہ قرار دیا انہوں نے اسرائیل پر ایک بار پھر الزام عائد کیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں بھوک کو ہتھیار بنا رہا ہے۔ تاہم اسرائیل نے قحط کے خطرہ کو ماننے سے انکار دیا ہے۔


































