Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

ریورس مائیگریشن، صیہونی حکومت کیلئے المیہ

تحریر: سید رضی عمادی

اسرائیلی میڈیا نے مقبوضہ علاقوں سے دوسرے ممالک میں صہیونی تارکین وطن کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی خبر دی ہے۔ صیہونی حکومت جس نے برطانیہ اور امریکہ کی حمایت سے فلسطینیوں کی سرزمین پر قبضہ کیا اور فلسطینیوں کی زمینوں پر ایک جعلی ریاست قائم کی، اس کے لئے ایک اہم ترین مسئلہ آبادی کا بحران رہا ہے۔ اپنی آبادی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اس حکومت نے پوری دنیا کے یہودیوں کو مزید خوشحالی کا وعدہ و لالچ دے کر مقبوضہ علاقوں میں ہجرت کرنے کی ترغیب دی۔ دوسرے لفظوں میں، مقبوضہ فلسطین کی طرف ہجرت صہیونی فکر کی بنیاد ہے اور صیہونی حکومت کی بقاء کا اہم ترین عنصر یہودی آبادی کی بقا ہے۔ اس لیے حالیہ برسوں میں قابض حکومت نے موجودہ آبادی کو برقرار رکھنے کے علاوہ دنیا کے دیگر خطوں سے یہودیوں کو قائل اور بہکاوے کے ذریعے مقبوضہ فلسطین کی طرف راغب کرنے کی بے انتہاء کوشش کی ہے۔

تاہم، پوری دنیا سے یہودیوں کی مقبوضہ علاقوں کی طرف ہجرت صیہونی حکومت کے لیے طاقت بننے کے بجائے اب ایک مستقل مسئلہ بن گئی ہے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ وقت گزرنے کے ساتھ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے اور اس نے الٹی ہجرت کے مسئلے کو جنم دیا ہے۔ مقبوضہ سرزمین سے یہودیوں کی الٹی ہجرت کی مختلف وجوہات ہیں۔ سب سے اہم وجوہات میں سے ایک متواتر اور بے شمار جنگیں ہیں، جو صہیونی حکام فلسطین اور لبنان کے ممالک کے خلاف چھیڑتے رہے ہیں۔ غزہ میں جاری جنگ بھی ریورس ہجرت میں شدت پیدا کرنے کا ایک اہم عنصر بن گئی ہے۔ اگرچہ الٹی ہجرت کا رجحان صیہونی حکومت میں داخلی بحرانوں کے ارتکاز کی وجہ سے بہت پہلے شروع ہوا تھا، لیکن آپریشن "طوفان الاقصیٰ ” اور غزہ کی جنگ کے بعد اس عمل نے مزید زور پکڑا ہے۔

درحقیقت "طوفان الاقصیٰ” آپریشن کے بعد صیہونیوں کی مشکلات دگنی ہوگئی ہیں اور غزہ جنگ کے جاری رہنے سے اقتصادی بحران اور عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے۔ تاریخی آپریشن "طوفان الاقصیٰ” کا ایک اہم نتیجہ صیہونیوں کی دکھتی رگ یعنی ریورس ہجرت ہے۔ آپریشن کے الٹی ہجرت پر پڑنے والے اثرات برسوں تک صیہونی حکومت کو پریشان کرتے رہیں گے۔ غزہ کی جنگ اور خاص طور پر اس جنگ کے طویل نیز مقبوضہ علاقوں کے شمالی محاذ پر حزب اللہ کی طرف سے کی جانے والی کارروائیاں بھی ریورس نقل مکانی میں شدت پیدا کرنے کا ایک اہم عنصر ہیں۔ مقبوضہ زمینوں کے شمالی علاقوں میں آبادکاروں کی جبری نقل مکانی ریورس ہجرت کا ایک اور عنصر ہے۔

اسرائیل کے ٹی وی چینل 12 نے اعلان کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر صہیونی آبادکاروں کے اکاؤنٹ ان پوسٹوں اور کمنٹوں سے بھرے پڑے ہیں، جس میں آبادکاروں نے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اسرائیلی ٹی وی چینل نے اطلاع دی ہے کہ 7 اکتوبر کو غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد آبادکاروں کی ہجرت کی خواہش تین مراحل میں بڑھی ہے۔ اعداد و شمار اور رپورٹس کے مطابق پہلے مرحلے میں مقبوضہ اراضی سے نقل مکانی سے متعلق خطوط اور کمنٹس کی اشاعت میں 70 فیصد اضافہ ہوا، دوسرے مرحلے میں مارچ میں ہریدی کی نقل مکانی کا مسئلہ سامنے آیا اور تیسرا مرحلہ جو اب بھی جاری ہے، اس میں مزید صیہونی آبادکار مقبوضہ زمینیں چھوڑ رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں سکوبر سروے کے نتائج بھی صیہونیوں کی ہجرت کی خواہش میں اڑھائی گنا اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular