
تحریر: الہام مؤذنی
متحدہ عرب امارات میں ایران کے ایک بینکاری چینل پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کے صرف چار روز بعد، ایرانی صدر نے بشکیک میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر آزاد اور خود مختار مالیاتی نظام کے طریقۂ کار پر مشاورت کی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کا اجلاس منگل کی صبح کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شروع ہوا، جس میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی شریک ہیں۔ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے، جب چند روز قبل ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ایسی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے Operation Economic Outcast "اقتصادی اخراج” کا نام دیا گیا ہے اور جس کا مقصد ایران کی "ہر معاشی شہ رگ” کو منقطع کرنا قرار دیا گیا ہے۔ الجزیرہ نے اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں اس سوال کا جائزہ لیا ہے کہ آیا شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی رکنیت واشنگٹن کی نئی اقتصادی گھات کے مقابلے میں ایک ڈھال ثابت ہوسکتی ہے۔؟
الجزیرہ نے واشنگٹن کی حالیہ کارروائیوں، جن میں متحدہ عرب امارات میں ایران کے ایک بینکاری چینل اور دبئی میں بینک ملی ایران کی شاخ کے سربراہ پر پابندی شامل ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران نے اس کے جواب میں شنگھائی اجلاس میں شرکت کی ہے، تاکہ چین، روس اور بھارت جیسے اہم ممالک کے ساتھ اپنے تجارتی شراکت داروں، مالیاتی راستوں اور ٹرانزٹ کے ذرائع کو متنوع بنا سکے۔ اصفہان یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے استاد محسن فرخانی نے الجزیرہ سے گفتگو میں چین کو محض ایک اقتصادی شراکت دار نہیں بلکہ امریکی اقتصادی دباؤ کو غیر مؤثر بنانے والے اہم ترین عناصر میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، بیجنگ بخوبی جانتا ہے کہ ایران کے ساتھ مالیاتی تعلقات اور تیل کی تجارت کو برقرار رکھنا چین کے قومی مفادات اور سلامتی کی ضمانت ہے اور اگر ایران کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں چین پر امریکی پابندیاں بھی عائد ہو جائیں تو بھی بیجنگ ایران کے ساتھ تعاون ترک نہیں کرے گا۔
فرخانی مزید کہتے ہیں کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے مالیاتی نظام وضع اور عملی شکل دے رہا ہے، جو مغرب سے آزاد ہوں اور تنظیم کے رکن ممالک کے باہمی مفادات اور اقتصادی ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہوں۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایران نے شنگھائی ترقیاتی بینک سے متعلق مشاورت میں فعال کردار ادا کیا ہے اور متعدد تکنیکی و عملی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں سرمایہ کے ڈھانچے میں قومی کرنسیوں کا استعمال اور آزاد مالیاتی ادائیگی و تصفیے کے نظام کا قیام شامل ہے۔ فرخانی کے خیال میں اس بینک کو عملی شکل دینے کے لیے چین کی حمایت، توانائی کی تجارت میں قومی کرنسیوں کا استعمال اور پابندیوں کا سامنا کرنے والے رکن ممالک کے لیے کثیرالجہتی ادائیگی اور تصفیے کا نظام، شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کے لیے سب سے اہم کامیابیاں ہوسکتی ہیں۔
روس اور بھارت، اسٹریٹجک مواقع
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں روس کی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی ہے، جو خود بھی مغرب کی وسیع پابندیوں کا شکار ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران اور ماسکو کے درمیان تعاون "کمزوری کے مقامات کو کم کرنے اور تزویراتی صلاحیت میں اضافے کا ایک ذریعہ” بن چکا ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نئے مالیاتی اور تجارتی طریقۂ کار تشکیل دے رہے ہیں۔ فرخانی کا کہنا ہے: "روس اور ایران مشترکہ تعاون کے ذریعے پابندیوں کے خطرات کو باہمی تعاون کے مواقع میں تبدیل کر رہے ہیں اور یہ تعاون پابندیوں کے اثرات کو کم یا غیر مؤثر بنانے کے لیے ایک عملی راستے میں تبدیل ہوگیا ہے۔ البتہ ان نظاموں کی مزید ترقی اس تعاون کو مزید بڑھا سکتی ہے۔”
بھارت کے بارے میں بھی الجزیرہ نے دونوں ممالک کے تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ اگرچہ نئی دہلی کے امریکہ کے ساتھ وسیع تعلقات ہیں، تاہم چابہار بندرگاہ اور شمال جنوب بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور میں بھارت کے براہِ راست مفادات موجود ہیں، جو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ فرخانی کے مطابق چابہار اور بین الاقوامی ٹرانسپورٹ کوریڈور میں بھارت کے مفادات ایران کو بندرگاہ کی ترقی، ٹرانزٹ اور اشیائے تجارت کی ترسیل کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کے ذریعے ایران کا وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کی منڈیوں سے رابطہ برقرار رہنے سے کسی ایک تجارتی راستے کو متاثر کرکے ایران کے پورے اقتصادی نیٹ ورک کو نقصان پہنچانا مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹ کے ایک اور حصے میں اقتصادی ماہر آئزک سعیدیان نے برآمدات کی چار کڑیوں پر مشتمل زنجیر۔۔۔۔ یعنی فروخت، نقل و حمل، رقم کی منتقلی اور اندرونِ ملک حاصل شدہ آمدنی کے استعمال۔۔۔ کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرانزٹ کے راستوں میں تنوع اور اندرونی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق ڈالر سے دوری اختیار کرنا انحصار کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، اگرچہ یہ اقدام اکیلا کافی نہیں ہوگا۔ سعیدیان نے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کو "منڈیوں، تجارتی راستوں اور ادائیگی کے طریقۂ کار میں تنوع” پیدا کرنے میں قرار دیا ہے۔ ان کے خیال میں ایران اگر بیک وقت چار سطحوں پر کام کرے۔۔۔۔ یعنی کرنسیوں، بینکوں، نقل و حمل کے راستوں اور تجارتی جغرافیے میں تنوع۔۔۔ تو وہ بیرونی دباؤ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور مزاحمت کی صلاحیت رکھنے والا اقتصادی نیٹ ورک تشکیل دے سکتا ہے۔
الجزیرہ نے دونوں ماہرین کی آرا کو سمیٹتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اگرچہ عالمی مالیاتی نظام کا مکمل متبادل نہیں ہے، تاہم یہ "خطرات کو کم کرنے کے لیے ایک ڈھال” کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مختصر مدت میں چین، روس اور بھارت کے ساتھ دوطرفہ معاہدے ایران کی بنیادی حکمتِ عملی ہوں گے، جبکہ تہران کوشش کر رہا ہے کہ ان باہمی تعاون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اندر ایک کثیرالجہتی ڈھانچے میں تبدیل کیا جائے۔ آخر میں رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ ایران کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی حقیقی اہمیت تنوع پیدا کرنے میں ہے۔ ایران تیل کی فروخت، تجارت، ادائیگی، سرمایہ کاری اور ٹرانزٹ کے لیے جتنے زیادہ متوازی راستے قائم کرنے میں کامیاب ہوگا، امریکہ کی اقتصادی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت اتنی ہی کم ہوگی اور ایران کی اقتصادی ڈیٹرنس کی قوت میں اتنا ہی اضافہ ہوگا۔


































