
نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ افغانستان میں روزمرہ کی زندگی منجمد جہنم بن چکی ہے. سلامتی کونسل سے خطاب میں انتونیو گوتیرس نے کہا کہ افغانستان بےشمار خطرات کا شکار ہے، وہاں تعلیم اور سماجی خدمات تباہی کے دہانے پر ہیں۔ نصف سے زائد افغانوں کو شدید بھوک کا سامنا ہے، افغانستان میں روزمرہ کی زندگی منجمد جہنم بن چکی ہے۔ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں خواتین سماجی کارکنان کے اغوا، گرفتاریوں پر تشویش ہے۔ جبری گرفتار خواتین سماجی کارکنان کو فوری رہا کیا جائے، افغانستان میں امدادی کارروائیاں محدود کرنے والے ضوابط معطل کیے جائیں۔انتونیو گوتیرس نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں عالمی امداد سے پبلک سیکٹر ورکرز کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔ طالبان دہشت گردی خطرات کم کرنے کے لیے عالمی برادری اور سیکیورٹی کونسل کے ساتھ کام کریں۔


































