Fri Oct 09, 2026

سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی

روزانہ کی خبریں

بچے کو بار بار کہنے کے باوجود اس کے کام نہ کرنے کی وجوہات

میرا ایک ۱۲ سالہ بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ کوئی بھی کام بیٹے سے بار بار کہہ کر تھک جاتی ہوں تو وہ انجام دیتا ہے۔ ایسا کیا کروں کہ وہ ایک ہی دفعہ کہنے پر کام کو انجام دے؟*

یہ شکایت سب والدین کی طرف سے ہے کہ وہ بچوں کو کام کرنے کا کہتے ہیں لیکن وہ سنتے ہی نہیں، کرنا تو دور کی بات۔

اس کی چند وجوہات ہیں*

بچے سے کاموں کی بےجا توقعات اور والدین کو مشورہ*
شاید ہماری توقعات بچوں سے ان کے کام کرنے کی طاقت سے زیادہ ہیں یعنی بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم بچے پر کاموں کی برسات کر دیتے ہیں۔
ایک دن ایسا کریں سکون سےبیٹھیں، کاپی پنسل اٹھائیں اور جو آپ نے بچے کو کام کہے ہوتے ہیں ان کی فہرست بنائیں آپ خود مشاہدہ کریں گے کہ ایک لمبی لسٹ تیار ہو جائے گی۔
بعض اوقات ہمیں خود بھی کوئی اتنے کام کرنے کو کہے تو ہم بھی اس کی بات پر کان نہیں دھریں گے لہذا بعض اوقات بار بار کاموں کا کہنا بچے کو باغی بنا دیتا ہے۔

  • کس وقت بچے کو کام کہا جا رہا ہے، اہمیت کا حامل ہے؟*
    بعض اوقات اس ” وقت” آپ بچے کو کام کرنےکا کہہ رہے ہیں جب وہ کام کرنا (نوعیت اور کیفیت کے اعتبار سے) اس کی بساط میں ہی نہیں تو وہ کیسے کرے؟
    ممکن ہے ہمارا خیال ہو کہ ہمارا بیٹا یہ کام کر لے گا لیکن  ہم سراسر غلطی پر ہوتے ہیں مثال کے طور پر اُس وقت جب بچے کا کمرہ مکمل طور پر بکھرا ہوا ہے جس کو مرتب کرنے کی ہمت حتی والدہ کو بھی نہیں ہو رہی تو وہ بیچارا بچہ کیسے کرے گا؟
    ہاں! یہ  بھی ہے کہ بچے کا مزاج زیادہ دیر کام پر توجہ رکھنے والا نہیں ہے یعنی اگر چاہتے ہیں کہ بچہ کام میں شریک رہے تو تھوڑے وقت کے لیے ایسا ممکن ہے لیکن اگر وہی کام طولانی ہو جائے بالفرض ایک گھنٹے تک پہنچ جائے تو بچے کا رجحان کسی اور کام کی طرف ہو جائے گا۔
    جیسے اوپر کمرے کی مثال دی گئی، آپ کمرے کے کاموں کو تقسیم کر لیں مثلا الماری والدہ مرتب کریں اور کھلونے وغیرہ بچہ اٹھائے۔ بچے کا حوصلہ پست کرنے میں والدین کا کردار!*
    بعض اوقات ممکن ہے ہم نے خود بچے کا حوصلہ پست کیا ہو۔
    بچے کا حوصلہ پست ہونے کی چند وجوہات ہیں۔
    بچے کا حوصلہ پست ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ والدین بچے کو حد سے زیادہ سمجھانے  کی کوشش کرتے ہیں یعنی اسے خود فیصلہ لینے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ والدین کو  چاہیے کہ بہت سے موقعوں پر بچے کو خود فیصلہ لینے دیں۔ لہذا احتیاط کریں اور بچے کے حوصلے کو پست نہ کریں۔ اگر مسلسل کام بچے کے سپرد کریں اور اسے فیصلہ لینے دیں گے تو یہ عمل اس کے فیصلہ لینے کی قوت میں مضبوطی کا باعث بنے گا۔ مثلا کمرے کی صفائی لیکن ایسا نہ ہو کہ مسلسل  اس سے کمرہ صاف کرنے کا تقاضا کریں اگر مسلسل اس سے مطالبہ کریں گے تو یہ اس کے فیصلہ لینے کی قوت کو ضعیف کرے گا۔ لیکن اگر چند بار اس نے خود کمرہ صاف کرنے کا فیصلہ کر لیا تو یہ خود اس کے اپنے نظم کا باعث بنے گا۔

والدین کے قول و فعل میں تضاد!*
یہ نکتہ ان والدین کےلیے ہے جن کی توقعات اور آرزوئیں اپنے بچوں سے زیادہ ہیں۔
یہاں تک کہ ہم بچے سے وہ خواہش کررہے ہوتے ہیں جسے ہم خود بھی نہیں کرتے لہذا بچوں سے صرف اس کام کی توقع رکھیں جسے آپ خود بھی انجام دیتے ہوں۔

بچے پر حکم نہ چلائیں*
بچوں سے اپنے مطالبات کا اظہار، حکم صادر کرنے کی صورت میں کبھی نہ کریں۔
یہ کرو، یہ نہ کرو ایسے جملوں کا ادا کرنا صحیح نہیں بلکہ گزارش والے انداز میں کریں مثلا کیا آپ یہ کام کریں گے……
پہلا نکتہ یہ ہے کہ درخواست کام کروانے والے انداز میں ہو البتہ حکمی صورت میں نہ ہو۔
دوسرا نکتہ ایک کام کے مکمل ہونے تک مسلسل درخواست کرتے رہیں یعنی پہلی درخواست ہی ایسی ہو جیسے آپ دسویں کر رہے ہیں۔ جب آپ نے بچے سے کوئی کام طلب کیا لیکن اس نے انجام نہیں دیا اور آپ نے اسے فورا ڈانٹنا شروع کر دیا تو ایسے بچہ کبھی بھی اپنی اصلاح نہیں کرے گا۔ اسی وجہ سے اوپر تذکرہ کیا کہ درخواست مسلسل لیکن حکمی انداز میں نہ ہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر وہ کام انجام نہ بھی دے تو وہ خود ہی اپنے آپ کو ملامت کرے گا۔

زیادہ نصیحت تربیت میں بہت نقصان دہ ہے۔

چھوٹے جملوں کا استعمال کریں ان کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔

بچوں کو چھوٹا درس دیں ان میں  آپ کے لمبے لمبے لیکچر سننے کی ہمت نہ

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular