
ازدواجی زندگی کی ایک اہم مہارت ذہنی سکون پہنچانا
ایک مرد اپنی بیوی کی تعریف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: میں جب جاب پر ہوتا ہوں تو بیوی کو بہت یاد کرتا ہوں۔ میرا اور اس کا رشتہ بہت دوستانہ ہے۔ مثلا جب وہ برتن دھو رہی ہو تو میں بھی باورچی خانے میں جاکر بیٹھ جاتا ہوں اور اس کے ساتھ ڈھیر ساری باتیں کرتا ہوں۔ میری بیوی گفتگو کرنے کی مہارت جانتی ہے اور بہت خوش زبان ہے۔ بات کرتے ہوئے اپنی زبان سے مجھے بلکل ناراض نہیں کرتی، نہ ہی گلہ شکوہ کرتی ہے۔
ایسی خاتون شوہر کو خود سے منسلک رکھتی ہے۔ اب ایسا نہیں کہ سب مرد مثال میں ذکر شدہ مرد کی طرح ہوجائیں بلکہ اہم چیز ذہنی سکون ہے۔ خداوند سورہ روم آیت ۲۱ میں شادی کا مقصد سکون بیان کرتا ہے۔
"اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس کی عورتیں پیدا کیں تاکہ انکی طرف مائل ہو کر آرام حاصل کرو اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کر دی جو لوگ غور کرتے ہیں انکے لئے ان باتوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔” (سورہ روم)
آپ کے سامنے ان مثالوں کے بیان کرنے کا مقصد، اسی سکون تک پہنچنا ہے۔ بعض خواتین شوہر کے آتے ہی باورچی خانے چلی جاتی ہیں، اس دلیل کے ساتھ کہ ہمیں بہت کام ہیں۔ لیکن جو خاتون مہارت جانتی ہے جب شوہر گھر آئے ان کے پاس بیٹھتی ہے اور محبت بھرے انداز میں بات کرتی ہے۔ شوہر کے آتے ہی گلہ شکوے شروع نہیں کرتی۔ کیونکہ مرد گھر آتے ہی گلہ شکوے سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ اس لئے یا غصہ اور لڑائی پر اتر آتا ہے یا بالکل چپ ہوجاتا ہے اور گفتگو سے پرہیز کرتا ہے۔ خاتون یہ نہ کہے کہ کام بہت ہیں، میں شوہر کو وقت نہیں دے سکتی۔ کیونکہ شوہر کو وقت دینا، اولیت میں سے ہے۔ گھر کے کام تب کے لئے رکھیں جب شوہر گھر پہ نہ ہو، لیکن جس وقت وہ گھر پر ہوں، اس وقت خاتون خانہ گھر والوں کے ساتھ مل بیٹھ کر گھرانے کی فضا کو خوشگوار بنائے۔ عورت پھول کی مانند ہے کا مطلب یہی ہے۔ جیسے پھول اپنے اطراف کو معطر کرتا ہے، خاتون خانہ بھی گھر کو محبت و احترام کی خوشبو سے معطر کرے۔


































