
بغداد : عراق میں سیاسی بحران شدت اختیار کرگیا۔ کوآرڈینیشن کمیٹی نے سیاسی تعطل دور کرنے کیلئے الصدر پارٹی سمیت تمام سیاسی دھڑوں کو بات چیت کی پیشکش کردی۔
مقتدی الصدر نے کہا ہے کہ اگر دوسری جماعتیں ہمیں چھوڑ کر قومی حکومت بناسکتی ہیں تو ہم خیر مقدم کریں گے۔ الفتح الائنس کے سربراہ ہادی العامری نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کو موجودہ سیاسی تعطل کی اصل وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اتحاد اس تعطل کو دور کرنے کے لیے تیار ہے۔ اُنہوں نے ملک کی اکثریتی شیعہ آبادی کے حقوق کے تحفظ کیلئے غیر جانبدار سیاستدانوں پر مشتمل گرینڈ شیعہ الائنس کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی تعطل کے خاتمے میں قوی امیدیں پیدا ہوگئی ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ گرینڈ شیعہ الائنس کابینہ کی تشکیل، نئے وزیر اعظم اور نئی حکومت کے قیام میں کامیاب ہوجائے گا اور پارلیمنٹ کی حمایت بھی اسے حاصل ہوجائے گی۔ دولت قانون پارٹی نے کہا ہے کہ الصدر اور اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے شیعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کو سیاسی میدان سے باہر کرنے کی کوشش حالات کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بنے گی۔ مقتدی الصدر نے ٹوئٹ کیا کہ اگر دیگر پارلیمانی دھڑے اور پارٹیاں ہمیں چھوڑ کے اکثریتی قومی حکومت بناسکتی ہیں تو ہم اس کا خیر مقدم کریں گے۔شیعہ کوآرڈینیشن کمیٹی میں شامل جماعتوں نے مقتدی الصدر کی اس تجویز کو خوش آئند قرار دیا ہے۔


































