
پولیس نے جلوس کو سبوتاژ کردیا،گھروں میں گھس کر خواتین کی بھی بے حرمتی ، شیلنگ سے عزاداروں کی حالت غیر، متعدد مردوخواتین عزادار گرفتار، مقدمات درج
عزاداری بنیادی آئینی حق پر قدغن ہے،پابندی کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے،مجلس وحدت مسلمین،مقدمات ختم اور گرفتارشدگان کو رہا کیا جائے،شیعہ علما کونسل
جھنگ (نیوز ڈیسک) جھنگ میں پولیس سالانہ روایتی مجالس وجلوس عزا پرٹوٹ پڑی،پولیس نے عزاداروں کے گھروں پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے لیس ہوکر حملے کئے چادر اور چاردیواری کو سرعام پامال کیا اور متعدد مرد وخواتین کو گرفتا رکرلیا،پولیس کے تشدد سے متعدد عزادار زخمی بھی ہوئے،18جیٹھ کی مناسبت سے جھنگ میں سالانہ مجالس وجلوس عزاکا اہتمام کیا گیا تھا،ڈی پی او جھنگ ڈ اکٹر سردار غیاث گل خان کے حکم پر پولیس مجلس عزا پر چڑھ دوڑی اور جلوس کو سبوتاژ کردیا،پولیس نے عزاداروں پربدترین تشدد کیا، شیلنگ سے عزاداروں کی حالت غیر ہوگئی، پولیس نے گھروں میں گھس کر خواتین کی بھی بے حرمتی کی اور چادر وچار دیواری کا تقدس پامال کردیا،جبکہ متعدد مردوخواتین عزاداروں کو گرفتارکرکے مقدمات درج کرلئے گئے، قصور، ناروال، قلعہ ستار شاہ سمیت پنجاب کے دوسرے علاقوں میں بھی انتظامیہ نے عزاداری کے اجتماعات نہیں ہونے دئے، مجلسِ وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی نے پنجاب کے مختلف اضلاع میں مجالس اور عزاداری پر پابندی قابل مذمت اور ہمارے بنیادی آئینی حق پر قدغن ہے جسے کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے، پنجاب پولیس اپنے حدود سے تجاوز کر رہی ہے ہم عزاداری پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کے لئے تیار نہیں،عزاداری کی بقا کے لئے ہر قسم کی قربانی دینگے، لیکن کرونا کی آڑ میں عزاداری کو محدود کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے، شیعہ علما کونسل جنوبی پنجاب علامہ موسیٰ رضا جسکانی نے کہا ہے کہ جھنگ انتظامیہ نے قدیمی لائسنس کے جلوس میں نہ فقط رکاوٹ پیدا کی، بلکہ ظلم و بربریت کی داستان رقم کرتے ہوئے نہتے مظلوم عزاداروں کو گھروں سے گرفتار کیاگیا،انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار شدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے، تمام ناجائز مقدمات بشمول یوم علی علیہ السّلام کے فی الفور ختم کیے جائیں۔


































