
لندن : عراق جنگ کے دوران کویت میں یرغمال بنائے گئے مسافروں نے چونتیس سال بعد برطانوی حکومت اور برٹش ائرویز پر مقدمہ کردیا۔ بی اے 149 کے متاثرہ 94 افراد نے لندن ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں متاثرین نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانوی حکومت اور ایئر لائن نے کویت پر حملے کا علم ہونے کے باوجود پرواز کو لینڈنگ کی اجازت دی۔ 134 افراد کو کویت میں چار ماہ سے زائد عرصے تک یرغمال بناکر رکھا گیا اور اس دوران عراقی صدر صدام حسین نے مسافروں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ درخواست میں کہا گیاہےکہ مسافروں اور عملے میں سے بعض کے ساتھ بدسلوکی اور جنسی زیادتی کی گئی اور انہیں بھوکا رکھا گیا۔ متاثرہ افراد نے اپنے دعوے میں کہا ہے کہ 34 سال قبل انھیں جس جسمانی تشدد اور جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تھا اس سے وہ آج تک نکل نہیں پائے ہیں۔
واضح رہے کہ دو اگست 1990 کو صدام حسین کی فوجیں داخل ہونے سے چند گھنٹوں قبل برٹش ایئرویز کی پرواز کو کوالالمپور جاتے ہوئے کویت میں اتار لیا گیا تھا جس میں 367 مسافر موجود تھے۔


































