
لندن : ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے رول آف لا انڈیکس میں پاکستان کی بدترین پوزیشن پر لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کا اعتراض مسترد کردیا۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ نے کہا ہے کہ رینکنگ کے نظام میں خامیاں نہیں بلکہ یہ دنیا بھر کے ماہرین سے منظور شدہ ہے اور مستقبل میں بھی یہی طریق کار جاری رکھا جائے گا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں کام کرنے والے لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کو خط لکھ کرکہا تھا کہ عدلیہ کی عالمی رینکنگ رپورٹ مفروضوں پر مبنی ہے اور اس میں کئی خامیاں بھی ہیں۔ ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی 2021 کی رپورٹ میں پاکستانی عدالتی نظام کو 139 ممالک میں سے 130 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔ ورلڈ جسٹس پراجیکیٹ کی اہلکار کے مطابق کسی ملک کی عدلیہ کی صورتحال انڈیکس کے کئی عوامل میں نظر آتی ہے جیسا کہ حکومتی اختیار میں رکاوٹ، دیوانی اور فوجداری انصاف۔ تاہم انڈیکس کی تیاری میں کئی اور عوامل بھی شامل ہوتے ہیں جیسا کہ شفاف حکومت، بنیادی حقوق اور ریگولیٹری عمل درآمد وغیرہ۔


































