
راولپنڈی : آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو یوکرین تنازع پر گہری تشویش ہے، ہمارے یوکرین کی آزادی کے وقت سے بہترین اقتصادی تعلقات ہیں، چاہتے ہیں کہ یوکرین میں فوراً جارحیت بند اور جنگ بندی کی جائے، یوکرین کے مسئلے کے دیرپا حل کے لیے تمام فریقین ڈائیلاگ کریں، پاکستان نے یوکرین کے لیے انسانی امداد بھیجی ہے اور اسے جاری رکھے گا۔ اسلام آباد میں سیکیورٹی ڈائیلاگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہمارے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، امریکا پاکستان کے لیے سب سے بڑی ایکسپورٹ مارکیٹ ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیاء اور جاپان بھی پاکستان کی خوشحالی کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اہم اقتصادی خطے میں واقع ہے، شہریوں کی خوش حالی اور سلامتی ہماری ترجیح ہے، مقاصد کے حصول کے لیے ملک میں اور باہر امن کی ضرورت ہوتی ہے،امن اور استحکام، خوش حالی اور ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
سربراہ پاک فوج نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان قریبی اسٹریٹجک تعلقات ہیں، پاکستان چین کے ساتھ سی پیک پر کام کرنے کے عزم پر قائم ہے، پاکستان کے امریکا کے ساتھ بھی مساوی طور پر بہترین طویل اسٹریٹجک تعلقات ہیں،پاکستان کسی دوسرے ملک سے تعلقات کو متاثر کیے بغیر امریکا کے ساتھ تعلقات کو توسیع دینا چاہتا ہے۔ خطے کی سیکیورٹی اور استحکام ہماری پالیسی کا حصہ ہے، ملک کی خوشحالی،ترقی اور امن ہماری ترجیح ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 90 ہزار جانیں قربان کیں، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف مثالی کامیابیاں حاصل کیں اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جدوجہد جاری رہے گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ بھارت کا سپرسانک میزائل پاکستان میں گرنے پر شدید تشویش ہے، ایک ایٹمی ملک کا دوسری ایٹمی ملک پر میزائل گرا ہے، بھارت دنیا اور پاکستان کو بتائے کیا اس کے ہتھیار محفوظ ہیں، میزائل کے باعث کسی بھی قسم کا جانی نقصان ہو سکتا تھا یا کوئی مسافر طیارہ بھی نشانہ بن سکتا تھا، پاکستان نے بھارت کے میزائل گرنے کے واقعے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔


































