
میڈرڈ : اسپین کی میزبانی میں عرب، ترکیہ اور یورپی حکام نے مسئلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کیا۔اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے میڈرڈ میں عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کے وفد کا خیرمقدم کیا۔ وزارتی کمیٹی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے حوالے سے مسلسل تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق کی تکمیل کو یقینی بنایا جاسکے اور انتہا پسندی، تشدد کے پھیلاؤ اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں کے پیش نظر خطے اور دنیا میں امن وسلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔ اسپین کے وزیر خارجہ جوز مینوئل الباریس نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں جاری تشدد کو ختم کرنے کے لیے قطر، مصر اور امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی تمام کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔وزارتی کمیٹی نے رفح کراسنگ اور فلاڈیلفیا کوریڈور کے فلسطینی حصے سے اسرائیلی فورسز کے انخلا اور فلسطینی اتھارٹی کا مکمل کنٹرول بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کی کوششوں اور مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی پر بھی بات چیت کی گئی۔
اجلاس میں فلسطین، سعودی عرب، سلووینیا، ناروے، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل، قطر کے وزیر مملکت اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل بھی موجود تھے۔ اجلاس میں فوری جنگ بندی کی اہمیت اور پوری غزہ کی پٹی میں مناسب اور پائیدار انسانی امداد کے داخلے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔


































