
اسلام آباد: پاکستان فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں تینوں ممالک باہمی مشاورت سے ردعمل کا لائحہ عمل طے کریں گے اور پھر اسی کے مطابق اقدامات کیے جائیں گے۔
العربیہ انگلش کو انٹرویو میں ترجمان پاکستان فوج نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان تمام فریقوں سے رابطے میں ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جا سکے۔ اس معاملے میں پاکستان کی حیثیت ایک غیر جانبدار اور دیانت دار سہولت کار کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن کا حامی ہے اور اسی لیے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف سے پوچھا گیا کہ ثالثی کی کوششوں میں کیا پیش رفت ہوئی ہے؟۔ انھوں نے جواب دیا کہ کئی دہائیوں پر محیط اور پیچیدہ تنازعات میں ثالث کا کردار غیر جانبدار اور معروضی رہنا ہوتا ہے، اس لیے پاکستان بطور ثالث جاری رابطوں یا ممکنہ پیش رفت پر تبصرہ نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، جبکہ پاکستان کی قیادت کا اس تنازع میں کوئی ذاتی مفاد بھی نہیں۔
انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت اپنی فوجی طاقت میں اضافے کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل خرچ کر رہا ہے، جبکہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کا بنیادی مقصد ملکی دفاع ہے۔ پاکستان اسلحے کی کسی دوڑ کا حصہ بننے کی کوشش نہیں کر رہا۔


































