
دمشق: شام میں سیکورٹی فورسز کیجانب سے اقلیتی علوی فرقے کا قتل عام ۔ لاذقیہ اور طرطوس کی سڑکیں لاشوں اور خون سے اٹ گئیں۔ سیکورٹی اہلکاروں اور داعشی دہشت گردوں نے مل کر ہر عمر کے مردوں کو گولیاں ماری۔ کئی افراد کے گلے کاٹے گئے۔ گھروں میں لوٹ مار کرکے آگ لگادی گئی۔ درجنوں خواتین کو یرغمال بنالیا۔ دہشت گردی کے وحشیانہ حملوں کی وجہ سے سینکڑوں افراد نقل مکانی کرگئے۔
اموات ہزار سے تجاوز کرگئیں۔ مرنے والوں میں تین سو سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ وحشیانہ قتل عام پر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی بھی بول پڑے اور کہاکہ بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکت کی خبریں خوفناک ہیں۔
فرانسیسی وزیرخارجہ جین نول باروٹ نے شام کی عبوری حکومت سے اقلیتی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔


































