
تہران: ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ تہران امریکی دباؤ کے سامنے ہرگز تسلیم نہیں ہوگا اور واشنگٹن کی اقتصادی اور نفسیاتی جنگ بھی اسی طرح ناکام ہوگی جس طرح اس کی فوجی جارحیت ناکام ہوئی ہے۔ جنرل علی عبداللہی کے مطابق امریکا اپنی تزویراتی کمزوریوں اور میدانِ جنگ میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے جنگ کو دوسرے محاذوں تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اقتصادی دباؤ، میڈیا آپریشنز اور ادراکی جنگ پر مشتمل مشترکہ مہم بھی اس ملک کے خلاف کامیاب نہیں ہوسکتی جو اپنی دینی اور قومی بنیادوں پر قائم ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کی جانب سے ایران کے ہتھیار ڈالنے کی توقع کو غلط فہمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کبھی حقیقت نہیں بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 80 برس سے امریکا دیگر ممالک کی جانب سے مزاحمت یا انکار نہ دیکھنے کا عادی رہا ہے۔ ایران کے خلاف کارروائی سے قبل واشنگٹن کا یہ خیال کہ ایرانی عوام غیر مشروط طور پر جھک جائیں گے لیکن ایران کا جواب ماضی میں بھی ناں تھا اور آئندہ بھی نہیں ہی ہوگا۔ میجر جنرل عبداللہی نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی دشمن اب اپنی فوجی اور علاقائی شکستوں سے پیدا ہونے والے خلا کو نرم جنگ، ادراکی کارروائیوں اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے پُر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوششیں بھی ناکام ہوں گی اور ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور ملکی حکام کی دانش مندی کے نتیجے میں واشنگٹن اپنی پہلے سے موجود ’’شرمناک شکستوں‘‘ کی فہرست میں ایک اور شکست کا اضافہ کرے گا. ایرانی جنرل نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ نے دینی اور قومی اقدار سے وابستگی کے ذریعے دنیا کے سامنے مزاحمت کا ایک نیا ماڈل پیش کیا ہے۔


































