
الماتی: قازقستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف جاری شدید اور پرتشدد عوامی مظاہروں کے باعث صورتحال بے قابو ہوگئی ہے جس پر قابو پانے کے لیے صدر نے روس سے مدد کرلی۔ جس کے تحت ملک میں ’استحکام‘ میں مدد کے لیے روسی قیادت میں فوجی تعینات کیے جائیں گے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے ملک گیر بدامنی میں اضافے پر اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) سے تعاون کا مطالبہ کردیا۔
قازقستان میں یہ مظاہرے پہلے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شروع ہوئے تھے لیکن سیاسی شکایات کو شامل کرنے کے لیے ان کا دائرہ وسیع ہو گیا۔
صدر قاسم جومارت توکایف نے بدامنی پھیلانے کا الزام غیرملکی تربیت یافتہ ’دہشت گرد گروہوں‘ پرلگایا ہے۔ مظاہروں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے، قازقستان کے صدر نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جس میں کرفیو اور بڑے پیمانے پر اجتماعات پر پابندی شامل ہے۔ ٹی وی پر نشر کیے گئے خطاب میں قازقستان کے صدر نے سی ایس ٹو (روس اور دیگر 5 سابق سوویت ریاستوں پر مشتمل فوجی اتحاد) سے مدد طلب کی ہے تاکہ حالات میں استحکام لایا جائے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز قازقستان کے وزیراعظم عسکر مامن نے ملک میں ایندھن کی قیمت میں اضافے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
قازقستان کے صدر قاسم جومارت نے بدھ کو وزیراعظم عسکر مامن کا استعفیٰ قبول کرتے ہوئے نائب وزیراعظم علی خان اسماعیلوف کو قائم مقام وزیراعظم مقرر کردیا تھا۔
خیال رہے کہ قازقستان میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف غیرمعمولی مظاہرے 3 کو مین قشلاق کے قصبے جانا اوزن سے شروع ہوئے تھے، جنہوں نے ملک کے دیگر حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
الماتے میں صورتحال اس وقت خراب ہوئی جب ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج اور بدامنی پر قابو پانے کے لیے پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے۔


































