
کراچی: شیعہ تنظیموں اور علمائے کرام نے محرم شروع ہونے کے باوجود مجالس وجلوس کے مقامات اور راستوں پر صفائی ستھرائی، روشنی اور سٹرکوں کی استر کاری کے کام شروع نہ کرنے اور رات کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ جاری رکھنے کیخلاف احتجاج کی کال دیدی۔ نشتر پارک میں شیعہ علما کونسل، مجلس وحدت مسلمین، آئی ایس او ،مجلس ذاکرین امامیہ،امامیہ آرگنائزیشن، تنظیم عزا، تنظیم عزاداری، پاک محرم،ہیئت آئمہ مساجد و علماء امامیہ اور دیگر شیعہ تنظیموں کے نمائندوں نے ہنگامی پریس کانفرنس میں مجالس و عزاداری میں رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ مشترکہ نیوز کانفرنس میں رہنماؤں نےکہا کہ محرم الحرام شروع ہوچکا ہے لیکن حکومت اور انتظامیہ کی نااہلی کے باعث عزاداران سید الشہدا سخت اذیت اور مشکلات سے دوچار ہیں۔ گذشتہ چند روز سے وزیر اعلیٰ سے لیکر نچلی سطح پر صرف ملاقاتیں اور اجلاس ہورہے ہیں لیکن صرف وعدوں، باتوں اور فوٹو سیشن کے کوئی اور چیز نظر نہیں آتی۔ شہر کراچی گندگی کا ڈھیر بنا ہوا ہے وزیر اعلی اور ان کے وزرا یا تو اقرار کریں کے وہ ناکام ہوچکے ہیں یا پھر جو وعدے کیئے گئے ہیں انہیں پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جلوس بھی ہوگا اور مجلس بھی بپا ہوگی لیکن صوبائی حکومت کا چہرہ کالا ہوجائیگا۔ گذشتہ تین چار سال سے محرم الحرام بارشوں کے موسم میں آرہا ہے لیکن حکومت سندھ کی جانب سے کوئی موثر اقدامات نہیں کئے جاتے۔ اربوں روپے کا بجٹ کہاں جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک مافیا بنی ہوئی ہے جس نے شہر میں لوٹ مار کا بازار گرم کررکھا ہے۔ کے الیکٹرک نے اربوں روپے شہر قائد کے باسیوں سے بٹورے اور پھر بھی بجلی کی فراہمی پر تیار نہیں۔ مجالس اور جلوسوں کے مقامات پر رات میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا طریقہ رہا ہے لیکن اس بار بجلی کا تعطل جاری ہے۔ اگر عزاداری اور مجلس کے دوران کوئی واقعہ رونما ہوا تو اس کی ذمہ داری وزیر اعلی، آئی جی اور کے الیکٹرک پر عائد ہوگی۔ اگر کے الیکٹرک نے رویہ درست نہ کیا تو اس کے ہیڈ آفس اور ذیلی دفاتر کے سامنےماتمی احتجاج کیا جائے گا۔


































