
کراچی : پاکستان میں شیعہ جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کیلئے آواز بلند کرنا جرم بن گیا، کراچی میں نو محرم الحرام کے مرکزی جلوس میں حسب روایت امام بارگاہ علی رضاؑ کے سامنے نماز ظہرین کا اہتمام کیا گیا، نماز کے بعد کی جانیوالی تقریر روکنے کیلئے سیکیورٹی اہلکار مقام نماز پر قائم کیمپ پر پہنچ گئے، تاہم منتظمین نے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے تقریر کرائی۔ مقرر نے جہاں مملکت خداداد پاکستان کے داخلی و عالم اسلام سے مربوط مسائل پر روشنی ڈالی، وہیں وطن عزیز میں محب وطن شیعہ جبری گمشدہ افراد کی عدم بازیابی کی مذمت کرتے ہوئے لاپتہ شیعہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا، جس پر کیمپ میں موجود اہلکاروں نے تقریر کرنے والے نوجوان کو حراست میں لینے کی کوشش کی، جس کیخلاف نماز میں شریک عزاداروں نے شدید احتجاج کیا، عزاداران امام حسینؑ کے احتجاج کے باعث سیکیورٹی اہلکار منتظمین کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی دھمکی دیتے ہوئے کیمپ سے چلے گئے۔ اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ہمارے منع کرنے کے باوجود شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کیوں کیا جلوس عزا میں مداخلت کے خلاف عزاداروں نے علماء کرام کی سربراہی میں احتجاجی دھرنا دیا، اس دوران مولانا احمد اقبال رضوی اور مولانا حیدر عباس عابدی نے جلوس عزا میں مداخلت اور نماز ظہرین کے دوران تقریر سے روکنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ بعد ازاں احتجاج ختم ہونے کے بعد مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں سے ہوتا ہوا اپنی منزل حسینیہ ایرانیان کھارادر کی جانب گامزن ہوگیا۔


































