
بیروت : حماس کے ترجمان اسامہ حمدان نے کہا کہ ہے کتنے اسرائیلی یرغمالی زندہ ہیں اور کتنے مر گئے اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ مسلسل اسرائیلی بمباری کے باعث ہر لمحہ صورتحال تبدیل ہورہی ہے۔ حماس کے ترجمان اور سیاسی بیورو کے رکن اسامہ حمدان نے ایک امریکی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس نے سات اکتوبر کو قبضے اور مظالم کے خلاف ردعمل کا مظاہرہ کیا۔فلسطینی کئی دہائیوں سے اسرائیلی مظالم کا شکار ہیں۔ ہم سے کہا جاتا ہے کہ کچھ نہ کرو۔ ہم خاموش رہیں یا لڑیں وہ ہمیں ہمارے وطن سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں تو کیا پھر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں ایسا تو ممکن نہیں ہے۔
جنگ بندی معاہدے پر اسامہ حمدان نے کہا کہ اسرائیلی چھ ہفتے کیلئے جنگ بندی چاہتے ہیں تاکہ یرغمالیوں کو رہا کرواکر پورے غزہ میں ہر شخص کو قتل اور ہر عمارت کو تباہ کرسکیں۔حماس مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کررہی ہے۔ اسرائیلی یرغمالیوں کے حوالے سے سوال پر اسامہ حمدان کا کہنا تھا کہ کتنے یرغمالی زندہ ہے اس کا درست اندازہ لگانا ممکن نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ کسی بھی اسرائیلی یرغمالی کی موت حماس کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔ مارے گئے تمام یرغمالیوں کو اسرائیلی فوج نے قتل کیا ہے۔


































