فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کیساتھ سیکورٹی سمیت تمام معاہدے اور مفاہمتی سمجھوتے منسوخ کردئے ،جس میں 1993کا تاریخی اوسلو معاہدہ بھی شامل ہے، جبکہ انہوں نے امریکا کے ساتھ بھی ہرقسم کی مفاہمت اور یقین دہانیوں کو ختم کردیا ہے، محمود عباس نے یہ فیصلہ اسرائیل کی جانب سے غرب الاردن کو ضم کرنے اور امریکا کی جانب سے اس کی مکمل حمایت کے تناظر میں کیا گیا، محمود عباس نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں امریکا کو برابر کا شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کو ایک قابض طاقت کی حیثیت سے دنیا میں متعارف ہونا ہوگا،محمود عباس کا یہ اعلان مزاحمت کے بجائے مفاہمت سے مسئلہ فلسین کے حل کی حامی فلسطینی قیادت کی ناکامی کا اعتراف ہے وہیں مزاحمت کے مسئلہ کے اصل حل کی طرف اشارہ بھی ہے، عالمی قوتوں خاص طور پر امریکا نے فلسطینی قیادت کو سبز باغ دکھا کر مسئلہ حل کرنے اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے جو خواب دکھائے تو وہ کب کے ریزہ ریزہ ہوچکے تھے ،امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالنے کے بعد جس طرح اسرائیل کی کھلی سرپرستی کی اور اس کے ہر غیرقانونی اقدام کی حمایت کی دنیا کی مخالفت کے باوجود سفارتخانہ کو مقبوضہ بیت المقد س میں منتقل کیا،یہودی بستیوں کو جائز قرار دیا ، مسئلہ کے حل کیلئے خوفناک منصوبہ سنچری ڈیل کے نام سے پیش کیا اور اب وہ غرب الاردن کو ضم کرنے کی بھی کھلی سرپرستی کررہا ہے،اس کے بعد فلسطینی قیادت کے نزدیک مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور اسی وجہ سے محمود عباس جیسے امریکی کٹھ پتلی صدر بھی مجبور ہوگئے کہ معاہدوں کو منسوخ کردیں، محمود عباس کا یہ اعلان حماس اور دوسری مزاحمتی قوتوں کے موقف کی جیت ہے جو اول روز سے ایک ہی بات کہہ رہی ہیں کہ مسئلہ مفاہمت سے نہیں مزاحمت سے حل ہوگا،اگر یہ بات مفاہمت کی گردان کرنے والی فلسطینی قیادت کی سمجھ میں آجاتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی ، صہیونزم نیل سے فرات تک جس ریاست کا خواب دیکھ رہی اسے پہلے ہی مرحلے میں چکنا چور کردیا جاتا ، فلسطینی قیادت کی جانب سے معاہدے ختم کرنے کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب مسلم دنیا ہفتہ دفاع القدس منارہی ہے اور یوم القدس پر اسرائیل کیخلاف بھرپور آوا زبلند کرنے کا عزم رکھتی ہے ، یہ دن اس عہد کا تقاضا کرتا ہے کہ پوری مسلم دنیا، خود کو "جسدِ واحد” ثابت کرنے کیلئے اپنے مظلوم بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرے، یوم القدس کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے مظلوم و محصور فلسطینی بھائیوں کا درد محسوس کریں ، عالمی سامراج کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں اتریں، یہی عالم اسلام کے مفاد میں ہے اور اسی سے اسلام کا بھی بول بالا ہوگا، اگر ہم اب بھی امریکا پر تکیہ کرتے رہے کہ وہ مسئلہ فلسطین حل کرائے گا تو ایسا کبھی نہیں ہوسکامسئلہ کے حل کیلئے مسلم دنیا کو مل کر کوشش کرنی ہوگی۔


































