
جنیوا : اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اسرائیلی قید میں فلسطینی خواتین اور لڑکیوں سے ظالمانہ رویہ اختیار کرنے کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق قید خواتین کو منصوبے کے تحت جسمانی تشدد اور ذہنی اذیت دی جارہی ہے۔لڑکیوں کو خاص ایام میں پیڈ فراہم نہیں کیے جارہے ہیں جس سے وہ مختلف امراض میں مبتلا ہورہی ہیں اور ان کی ماں بننے کی صلاحیت کو کم کرنے کے لیے انہیں مختلف اقسام کی ادویات دینے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ دوسری طرف یونیسیف نے قرار دیا ہے کہ غزہ کی جنگ کا سب سے زیادہ نشانہ بچے بنے ہیں۔
عالمی ادارہ برائے اطفال یونیسیف نے عالمی برادری سے غزہ میں فوری طور پر غذائی اور طبی امدار بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر غذائی امداد نہ پہنچائی گئی تو ہزاروں بچے رواں ماہ کے آخر تک بھوک سے دم توڑ دیں گے۔ اس وقت بھی غزہ میں کئی بچے موت کے قریب ہیں جنہیں شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔بہت سے بچے ایک وقت کے کھانے سے بھی محروم ہیں اور جو ان کو کھانے کو ملتا ہے وہ ان کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔


































