
دی ہیگ: بین الاقوامی عدالت انصاف نے فیصلہ دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں اسرائیل کی مسلسل موجودگی غیر قانونی ہے اور اسے جلد سے جلد ختم ہونا چاہیے۔ عالمی عدالت انصاف کا اجلاس دی ہیگ میں منعقد ہوا۔ جس میں عدالت کے صدر نواف سلام نے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کے بارے میں غیر پابند مشاورتی رائے پڑھ کر سنائی۔ عالمی عدالت انصاف نے کہا اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں پانی اور غذائی امداد پہنچانے کا پابند ہے۔ یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی جائیدادوں پر قبضے سے اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی۔ آئی سی جے نےکہا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شہریوں کو زبردستی بےدخل کرنا سنگین عمل ہے اور اسرائیل کا فلسطینی علاقوں پر جبری قبضہ کر کے اجارہ داری قائم کرنا جنیوا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی عدالت انصاف نے کہا اسرائیل فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں کے وسائل غصب کر رہا ہے۔ ہمیں ملنے والے دلائل کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے پر زبردستی اپنا تسلط قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ آئی سی جے نے کہا اسرائیل کی پالیسیوں اور کارروائیوں نے فلسطینیوں کے لیے حق خود ارادیت کے حصول کو انتہائی دشوار کر دیا ہے۔ آئی سی جے نے کہا تمام ممالک فلسطینیوں کو خود مختاری کے حصول کےلیے اقوام متحدہ کا ساتھ دینا چاہیے۔ عالمی عدالت نے کہا علیحدہ اور خود مختار ریاست کا قیام فلسطینیوں کا اصولی حق ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے مطابق اسرائیلی اور مقبوضہ علاقوں میں تفریق کرنا تمام ممالک کی ذمے داری ہے۔


































