
غزہ : اسرائیلی فوج نے حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم حماس نے ابھی تک یحییٰ سنوار کی شہادت سے متعلق خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی کے جبالیا کیمپ میں حملے کے دوران شہید مجاہد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیا جارہا ہے ۔ شبہ ہے اسکول پر حملے میں ملی لاش یحییٰ سنوار کی ہے۔ اسرائیلی ذرائع کا کہنا تھا کہ حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار کی شہادت جنوبی غزہ میں رفح علاقہ میں بمباری میں ہوئی ہے۔ غزہ میں پیدا ہونے والے یحییٰ سنوار نے تقریباً ایک چوتھائی صدی اسرائیل میں عمر قید کی سزا کاٹی۔ ان کو 1980 کی دہائی کے آخر میں اسرائیلی فوجیوں اور مشتبہ فلسطینی مخبروں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جیل میں انہوں نے حماس کی صفوں میں ترقی کی، عبرانی زبان سیکھی اور اپنے اسرائیلی جیلروں کا مطالعہ کیا اور حماس کے قیدی جنگجوؤں میں ایک اہم شخصیت بن گئے۔ وہ اتنے مقبول ہوگئے کہ جب ان کی رہائی ہوئی، غزہ کے خان یونس میں ان کے گھر کے قریب حماس اور غزہ کے لوگوں نے جشن منایا تھا، گھر کے باہر سبز خیمے بھی لگائے گئے اور جھنڈیاں بھی لگائی گئی تھیں، اس موقع پر لوگوں کی ایک طویل قطار تھی، جو انہیں گھر آنے پر خوش آمدید کہنے کے منتظر تھے۔


































