
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
عراقی وزیراعظم علی الزیدی آج سرکاری دورے پر تہران پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ واشنگٹن کے دورے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد ہو رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تہران کے بعد وہ علاقائی دورے کے اگلے مرحلے میں ترکی اور شام کا دورہ کریں گے۔ العرب اخبار کے مطابق عراقی وزیراعظم اپنے دورہ ایران کے دوران ایک تجویز پیش کرنے والے ہیں کہ بغداد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لئے تیار ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ اقدام جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ الزیدی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ ملاقات کے دوران اٹھایا گیا ہے، اس کا مقصد خطے میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان حالیہ فوجی تصادم کو ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا الزیدی اپنے ایران کے دورے کے دوران امریکہ کی طرف سے کوئی پیغام لے کر آئے ہیں یا نہیں۔
ایران اس سے قبل اعلان کرچکا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع میں واحد ثالث پاکستان ہے۔ اس کے باوجود ایران نے ایسے اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے، جن سے خطے میں کشیدگی میں کمی آسکے۔ بغداد کا خیال ہے کہ دونوں دارالحکومتوں واشنگٹن اور تہران کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں، لہذا وہ اس اہم کام میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست رابطے مشکل ہوگئے ہیں۔ یہ سفارتی کوشش الزیدی کے واشنگٹن کے دورے کے بعد ہوئی ہے، جہاں دونوں فریقوں نے تجارت کو بڑھانے، سرمایہ کاری کے مواقعوں میں اضافے، عراق کے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنانے اور عراقی خام برآمدات کے لیے نئی منڈیاں کھولنے پر تبادلہ خیال کیا، یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بغداد ایران کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو بھی گہرا کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
بغداد اس سے قبل ایران اور سعودی عرب کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ابتدائی دور کی میزبانی کرچکا ہے، جو بعد میں چین کی ثالثی میں ایک معاہدے پر منتج ہوا۔ 2026ء کے اوائل میں، جیسے ہی کشیدگی میں اضافہ ہوا، عراق نے ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کر دیں، اس کے وزیر خارجہ نے تہران کا سفر کیا، تاکہ اس مقصد کے لئے کوئی کام کرسکیں۔ اپنے تازہ اقدام میں بغداد نے ایران اور خلیج تعاون کونسل کے چھ ممالک کے ساتھ علاقائی سلامتی کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی تجویز پیش کی ہے۔ ایران نے اس کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن عرب ممالک اور امریکہ اس کی عملیت پسندی کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
اگرچہ بغداد نے 2021ء سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان خفیہ مذاکرات کی میزبانی کی ہے، لیکن واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ دونوں فریقوں کے اختلافات صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود نہیں ہیں، بلکہ اس میں پابندیاں، فوجی تعیناتی، خلیج فارس میں میری ٹائم سکیورٹی، اور ایران کے تمام علاقائی نیٹ ورک جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ واشنگٹن کے دورے کے بعد الززیدی کا یہ دورہ ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی بغداد کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اس حوالے سے عراقی سیاسی تجزیہ کار "مجاشہ التمیمی” نے المعلومہ نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ "ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کے بعد الزیدی کے تہران کے دورے کا وقت اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست باضابطہ ثالثی ہوگی اور ہوسکتا ہے کہ بغداد کوئی غیر اعلانیہ پیغام بھی لیکر آیا ہو، جس میں آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہ میں تنازعات کو بڑھنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "الزیدی ایک بار پھر ہمسایہ ممالک اور علاقائی و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے جغرافیائی سیاسی توازن پیدا کرنے کی پالیسی اپنانے کے لیے عراق کے عزم پر زور دیں گے۔” الزیدی کے انقرہ کے دورے اور ترک حکام کے ساتھ ان کی بات چیت کے بارے میں، التمیمی نے واضح کیا کہ ان مذاکرات میں متنازع مسائل، بنیادی طور پر سرحدی سلامتی اور کردستان ورکرز پارٹی (PKK) کے معاملے پر توجہ مرکوز کی جائے گی، نیز عراقی کردستان سے تیل کی برآمدات کی بحالیکا موضوع زیر بحث آسکتا ہے۔ عراقی حکام کا خیال ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کے محدود ذرائع دوبارہ کھولنے سے ایک تعمیری علاقائی اداکار کے طور پر عراق کی پوزیشن مضبوط ہوگی اور ملک کو "طاقت کے مقابلے کے میدان” سے "سفارت کاری کے سنگم” میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
ایران میں عراق کے نئے سفیر یاسر الحجاج نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ عہدے داروں کا یہ دورہ تہران اور بغداد کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور سماجی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ الحجاج نے یہ بھی کہا کہ عراقی وزیراعظم کے دورے کا ایک اہم مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں استحکام اور امن کی حمایت کرنا ہے۔ دوسری جانب مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام کے درمیان عراق اپنے علاقائی سفارتی کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ مسئلہ الزیدی کے ایران کے بعد قطر، سعودی عرب، ترکی اور شام کے دورے سے واضح ہوتا ہے۔ الزیدی کا یہ دورہ، مذکورہ بالا مسائل کے علاوہ، ایران عراق سکیورٹی معاہدے کے معاملے سے بھی متعلق ہوسکتا ہے۔ یہ مسئلہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی اسرائیلی جارحیت اور عراق کے کردستان علاقے میں قائم دہشت گرد گروہوں کے کردار کے بعد خاصا اہم ہوگیا ہے۔ ایران اس سکیورٹی معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس سلسلے میں ایران کی اہم ترجیحات میں سے ایک عراقی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال سے روکنا ہے۔


































