
ایران نے پیغام دے دیا کہ مغربی ایشیا میں تمام امریکی اڈے اس کے نشانے پر ہیں، صہیونی ریاست کو بھی پیغام مل گیا کہ وہ غلط جگہ قائم ہے
امریکی فوج کو شہید سلیمانی اور مہدی المہندس کے قتل کا سنگین تاوان ادا کرنا ہی پڑے گا اور علاقے سے ان کا انخلاء ہوکررہے گا
بیروت (نیوز ڈیسک)حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ عین الاسد چھاؤنی پر ایران کے میزائل حملے نے امریکا کی ہیبت کو چکنا چور کردیا ہے، ایران نے امریکی چھاؤنی پر حملہ کرکے پیغام دے دیا ہے کہ مغربی ایشیا میں تمام امریکی اڈے اس کے میزائلوں کی زد میں ہیں، یہ حملہ صہیونی ریاست کے لئے بھی ایک پیغام تھا، بیوقوف اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کو بھی اندازہ ہوجائے گا کہ ان کی ریاست غلط جگہ قائم ہے، جنوبی بیروت میں شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی یاد میں منعقدہ مجلس ترحیم سے خطاب میں سید حسن نصراللہ نے کہا کہ 2000 میں لبنان سے اسرائیلی انخلا میں شہید قاسم سلیمانی نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، سید حسن نصراللہ نے داعش کی شکست میں شہید قاسم سلیمانی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر داعش کو شام و عراق میں شکست نہ دی جاتی تو آج اردن، کویت اور خلیج فارس کے دیگر ملکوں کی سلامتی خطرے میں پڑجاتی، انہوں نے کہا کہ خطے کی استقامت ایران اور جنرل قاسم سلیمانی کی مرہون منت ہے، عراق میں امریکا کے فوجی اڈے پر ایران کے جوابی حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ نے کہا کہ عین الاسد میں جو کچھ ہوا وہ صرف ایک طمانچہ تھا نہ کہ قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ، یہ پہلا قدم ہے جو خطے سے امریکا کی مکمل واپسی کا باعث بنے گا، امریکی فوج کو آخر کار شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے قتل کا سنگین تاوان ادا کرنا ہی پڑے گا اور علاقے سے ان کا انخلا ہوکے رہے گا، اور یہ نئی تاریخ کا آغاز ثابت ہوگا،ایران نے امریکا کے منہ پر جو طمانچہ رسید کیا ہے اس میں ہمارے لیے ایک سبق پوشیدہ ہے کہ ہم اپنی طاقت پر بھروسہ کریں کیونکہ امریکا غیر محدود طاقت کا مالک نہیں، انہوں نے کہا کہ نیوزکانفرنس کے دوران ٹرمپ اوراس کے ساتھیوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں، امریکی لیڈروں کے چہروں کو دیکھیں کیا وہ فاتحین کے چہرے لگ رہے ہیں، سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا بھر کے مستضعفین اور مظلوموں کی مدد کو اپنا فرض سمجھتا ہے اور اسی بنیاد پر وہ ہماری مدد کرتا ہے اور آج تک ہم سے کوئی تقاضا نہیں کیا اور یہی بات مغربی ملکوں کے حلق سے نیچے نہیں اترتی اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خطے کی استقامت ایران کی پراکسی بنی ہوئی ہے۔


































