
دوحہ : دوحہ انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر محمد المصری کا کہنا ہے کہ ایران آئندہ تقریباً آٹھ ہفتوں کے دوران جنگ میں شدت لا سکتا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھایا جا سکے اور وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کے نتائج متاثر ہوں۔
دوحہ انسٹی ٹیوٹ فار گریجویٹ اسٹڈیز کے پروفیسر محمد المصری نے ایران کی جانب سے آئندہ ہفتوں میں جنگ تیز کیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ ایران آئندہ تقریباً آٹھ ہفتوں کے دوران دفاع کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام نے بھی اندازہ ظاہر کیا ہے کہ ایران جنگ کی رفتار اور شدت کا تعین امریکا کو کرنے دینے کے بجائے خود زیادہ جارحانہ کارروائیاں کرسکتا ہے۔ محمد المصری کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت سمجھتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ بڑھایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی معیشت مزید نقصانات برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں جبکہ ریپبلکن پارٹی بھی وسط مدتی انتخابات سے قبل مزید عدم استحکام کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ ان کے مطابق اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایران کے لیے اس وقت جنگ میں شدت لانا اور ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھانا زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔


































