ایران اور چین کے درمیان تاریخی اسٹریٹیجک معاہدہ ہوگیا ہے تاہم ابھی اس کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جانی باقی ہے، معاہدے کے تحت ایران اگلے 25 سال تک چین کو درکار تمام خام تیل فراہم کرے گا اور اس سے ملنے والی آمدنی کو اپنی مرضی سے استعمال کرسکے گا،معاہدے کے تحت دونوں ملک پیٹروکیمیکل مصنوعات، سویلین جوہری توانائی کی فراہمی، شاہراہوں، ریلوے اور سمندری رابطوں کی تعمیر اور بینکاری میں تعاون کریں گے، یہ معاہدہ امریکا،اسرائیل اور سعودی عرب اور ان کے اتحادی ممالک پر بجلی بن کر گرا ہے،اسی لئے ان ممالک نے معاہدے کے خلاف زہر افشانی شروع کردی ہے،معاہدے کو ایرانی عوام کے مفادات کے خلاف قرار دیا جارہا ہے اور اپنی منطق کے جواز میں ایسے ایسے دلائل پیش کئے جارہے ہیں کہ جنہیں سن کر ہنسنے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا، امریکا نے اپنی بالادستی کو قائم رکھنے کیلئے جو جارحانہ فیصلے کئے ہیں ان کی وجہ سے عالمی توازن بگڑ رہا ہے، امریکاچاہتا ہے کہ اس کی دنیا پر عسکری، تجارتی اور معاشی بالادستی قائم رہے،وہ ایک جانب چین پر تجارتی پابندیاں عائد کر رہا ہے جس کا مقصد اس کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرو رسوخ کو روکنا ہے، دوسری جانب امریکہ ایران پر پابندیاں عائد کر رہا ہے جس کا مقصد ایران کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے تاکہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے، ایران اور چین کے خلاف امریکا نے جو معاندانہ رویہ اختیار کیا ہوا اس نے دونوں ممالک کو ایک دوسر ے کے مزید قریب آنے کا راستہ ہموار کردیا ھے،تہران و بیجنگ دونوں کی کوشش ہے کہ امریکا کے معاشی دباو کو کم کرنے کیلئے وسیع تزویراتی تعاون کی بنیاد رکھیں، یہ ایسا معاہدہ ہے جو چین کو امریکا کیخلاف خطے میں مضبوط بنیاد فراہم کرے گا اور امریکی پابندیوں کے باعث تنہائی کا شکار ایران کو عالمی مارکیٹ میں رسائی کا موقع دے گا، اس معاہدے سے دونوں ممالک نے امریکا اور مغرب کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کے پاس اپنے مسائل کے حل کیلئے مغرب اور امریکا کے علاوہ بھی نعم البدل موجود ہیں،چین نے ایران کیخلاف استعمال ہونے کے تمام امریکی وار اس پر ہی پلٹ دئے ہیں،امریکا دباو ڈال رہا تھا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر بند کردے اور امریکا کی تجاویز کو تسلیم کرلے اور امریکی خواہشات کے مطابق نیا معاہدہ کرے لیکن ایران نے تمام تر دباوکو مسترد کردیا، ایران نے پہلے ہی روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک مستحکم مقام پر پہنچادیا تھا جس سے اسے سلامتی کونسل کے پانچ ممبران میں سے دو ممبران چین اور روس کی حمایت اور تائید حاصل ہوچکی ہے،اس معاہدے کے بعد امریکا کیلئے ایران کو اپنے قومی مقاصد کیلئے دباو میں لانا آسان نہیں ہوگامعاہدے کے بعد چین ایران کے تمام تیل اور گیس کے ذخائر خریدنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ایران کی پیداوار دو لاکھ بیرل سے ساڑھے چار لاکھ بیرل یومیہ تک بڑھ سکتی ہے،ایران کو تیل اور گیس کی سپلائی کیلئے ترکمانستان چائنہ آئل اینڈ گیس پائپ لائن کی محفوظ شاہراہ بھی میسر آجائے گی اور امریکا اور اس کے اتحادی ایران کی سپلائی کو نہیں روک سکیں گے،ایران اور چین کی قربت پاکستان کیلئے خوش آئند بات ہے،معاہدے سے پاکستان کی مغربی سرحدیں محفوظ ہوجائیں گی،معاہدے کے بعد چین کو خطے میں اثر ورسوخ بڑھانے کا موقع ملے گا، جو پہلے ہی پاکستان سے نہایت دوستانہ تعلقات رکھتا ہے،ایران کے ساتھ معاہدہ ان تعلقا ت کو تقویت فراہم کرے گا،اس معاہدہ نے ثابت کردیا کہ ٹرمپ نے ایران کو تنہا کرنے کا جوجوا کھیلا تھا اس میں اسے مات ہوچکی ہے، ٹرمپ کے دور میں پورے خطے سے امریکا کا انخلا ہو رہا ہے اور یہ معاہدہ امریکی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔


































