
عین الاسد اڈے پر بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا، 12مقامات اور رہائشی کوارٹرز تباہ ہوگئے، تباہی کے مناظر سے غیر معمولی صورتحال کا اشارہ ملتا ہے، سی این این
224امریکی فوجیوں کو تل ابیب لایا گیا، اسرائیلی صحافی کا انکشاف، 80 امریکی فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوئے، ایران کا دعویٰ،حملہ انتقام کا پہلا مرحلہ ہے، ایرانی کمانڈر
واشنگٹن /تہران(نیوز ڈیسک) بغداد میں امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے جواب میں ایران نے عراق میں امریکا کے دو فوجی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، امریکی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہواجبکہ امریکی میڈیا نے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا، امریکی ٹی وی چینل سی این این نے اعتراف کیا ہے کہ عراق کے عین الاسد فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا،میزائل حملے سے 12مقامات تباہ ہوگئے، فوجیوں کے رہائشی علاقے میں تباہی ہوئی، سی این این کی رپورٹر نے جسے کافی مشکلات کے بعد عین الاسد فوجی اڈے جانے کی اجازت ملی تھی بتایا کہ چھاؤنی میں تباہی کے مناظر سے غیر معمولی صورتحال کا اشارہ ملتا ہے،ادھر اسرائیلی اخبار ہارٹز کے صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ عراق سے خصوصی کارگو جہازوں کے ذریعے 224امریکی فوجیوں کو تل ابیب لایا گیا جہاں انہیں مقامی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے،ایران نے عراق میں عین الاسد اور اربیل میں دو فوجی اڈوں پر میزائل داغے، میزائل حملوں میں 80 امریکی فوجی ہلاک اور 200 زخمی ہوگئے، جبکہ بڑے پیمانے پر فوجی سازو سامان اور ڈرون طیارے تباہ ہو گئے، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل امیر علی حاجی زادے نے حملے کو شہید جنرل سلیمانی کے انتقام کا پہلا مرحلہ قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ شہادت کا انتقام علاقے سے امریکی فوج کا مکمل انخلا ہے، کارروائی میں فاتح 313اور قیام میزائلوں کا استعمال کیا گیا، امریکی ڈیفنس سسٹم ہمارے میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا، حملے کے بعد زخمیوں کو نو پروازوں کے ذریعے اردن اور بہت سے دوسرے زخمیوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بغداد کے امریکی اسپتال میں منتقل کیا گیا، امریکی ایئر بیس پر میزائل حملے امریکا کے لئے تباہ کن ثابت ہوئے، ایران نے امریکا کا رعب و دبدبہ ختم کردیا ہے خطے میں امریکا کے تمام فوجی اڈے ایرانی میزائلوں کے نشانے پر ہیں۔


































