
تحریر: حسین عبد الہی فر
آج شہید قاسم سلیمانی کا شمار ایران اور امت مسلمہ کے معروف ترین قومی اور امتی ہیروز میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی مزاحمت اور جہاد اصغر کے میدان میں عظیم کارنامے انجام دیے ہیں۔ جیسے جیسے ان کی شہادت سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ان کی شخصیت کے مزید پہلو اجاگر ہو رہے ہیں اور ایرانی عوام، خطے کے مسلمانوں اور انسانی معاشروں کیلئے ان کی کاوشیں اور کارنامے مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت کے مختلف پہلووں اور مکتبِ شہید قاسم سلیمانی کے معیارات کے بارے میں انجام پانے والی تحقیقات، خاص طور پر عالم بشریت کیلئے انجام پانے والے ان کے عظیم کارناموں کا جائزہ ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے اور یہ کارنامے نہ ہی ایران میں اور نہ ہی علاقائی یا بین الاقوامی سطح پر بخوبی واضح نہیں ہو پائے۔
ابھی تک تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی نابودی پر مشتمل ان کا عظیم کارنامہ ہی دنیا والوں پر درست انداز میں واضح نہیں ہو پایا۔ شہید قاسم سلیمانی کی شخصیت اور ان کے مکتب کا جو پہلو سب سے زیادہ غفلت کا شکار ہوا ہے وہ بصیرت اور تبلیغ کے محاذ پر ان کا عظیم جہاد ہے۔ شہید قاسم سلیمانی کی مذہبی اور سیاسی بصیرت پر کافی حد تک توجہ نہیں دی گئی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بصیرت کے بغیر اسلامی مزاحمت اور جہاد ممکن ہی نہیں ہے۔ کیونکہ مزاحمت ہر زندہ شے کی بقا کا راز ہے اور دنیوی زندگی کا تسلسل درپیش رکاوٹوں کے مقابلے میں مزاحمت اختیار کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اسی طرح انسان کی معنوی زندگی بھی نفس امارہ، شیطان، نفس امارہ کے غلام انسانوں اور شیاطین انسی کے مقابلے میں مزاحمت کی محتاج ہے۔
شہید قاسم سلیمانی نے اپنی کامیابی اور معنوی توفیقات کے اسرار مکتب فاطمی س اور مکتب زینبی س سے سیکھے تھے۔ حضرت فاطمہ زہرا س اور حضرت زینب کبری س کا شمار ایسی عظیم خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے بنی امیہ کی جانب سے انجام پانے والی نفسیاتی جنگ اور پراپیگنڈے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا۔ دلوں کے سردار شہید قاسم سلیمانی نے اسلام کی راہ میں سر دینا عاشورہ سے سیکھا تھا۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ حسین علیہ السلام کا خون اور سر بھی اکیلے میں اموی حکمرانوں کی جانب سے تاریخ میں تحریف کرنے کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور اس کیلئے حضرت زینب س کا تبلیغی جہاد درکار ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ روز عاشورا کے بعد حضرت زینب س نے اپنے تبلیغی جہاد کے ذریعے بنی امیہ کی تمام سازشوں اور پراپیگنڈے کا خاتمہ کر دیا۔
شہید قاسم سلیمانی اپنی آگاہی اور بصیرت کی بدولت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ امام خمینی رحمہ اللہ علیہ کی جانب سے اسلامی مزاحمت کو قومیانا، حقیقی محمدی ص اسلام کی بقا کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے اس مکتب میں رہ کر یہ سیکھا تھا کہ اسلامی مزاحمتی بلاک کی تشکیل پر مبنی امام خمینی رح کے اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔ انہوں نے امام خمینی رح کا شاگرد ہونے کے ناطے یہ سیکھا تھا کہ "نور اور عدالت” کے محاذ کی "جہالت اور ظلم” کے محاذ پر برتری فتح کا راز اسلامی مزاحمت کو قوم اور امت مسلمہ کے تشخص کا حصہ بنانے میں مضمر ہے۔ وہ اسی خالص اور سچی گہری بصیرت کی بدولت ایسے ماحول میں امت مسلمہ میں اسلامی مزاحمتی بلاک تشکیل دینے میں کامیاب رہے جب سوشل میڈیا اور نرم جنگ کے میدان میں دشمن تابڑ توڑ حملے جاری رکھے ہوئے تھا۔
دشمن نے شہید قاسم سلیمانی کو ایسے وقت امت مسلمہ سے چھین لیا جب اسلامی مزاحمتی محاذ حتمی فتح سے چند قدم کے فاصلے پر تھی۔ دشمن اس حقیقت سے آگاہ ہو چکا تھا کہ تبلیغی جہاد کے میدان میں شہید قاسم سلیمانی کی شجاعانہ جدوجہد اس جہاد سے کہیں زیادہ وسیع اور گہری ہے جو وہ فوجی جنگ کے میدان میں انجام دے رہے ہیں۔ امریکہ اپنی شیطانی سازشوں کے نتیجے میں یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ ایرانی عوام اس کی نرم جنگ کا شکار ہو کر نظام مقدس اسلامی جمہوریہ کی پشت پناہی چھوڑ دیں گے اور الیکشن کا میدان خالی چھوڑ کر عالمی سطح پر نظام کو شدید چیلنجز سے روبرو کر دیں گے۔ لیکن وہ بصیرت افزائی کے میدان میں شہید قاسم سلیمانی کی عظیم صلاحیتوں سے غافل تھا۔ آخرکار شہید قاسم سلیمانی کے دلنشین کلام اور ولی فقیہ اور نظام اسلامی جمہوریہ کے مخلصانہ دفاع نے دشمن کے تمام حربے ناکام بنا دیے۔
ملت ایران اور امت مسلمہ آج ہر وقت سے بڑھ کر شہید قاسم سلیمانی کے وجود کو زندہ اور اپنے شانہ بشانہ محسوس کر رہی ہے۔ ایرانی قوم اور مسلمانان عالم ہر گز شہید قاسم سلیمانی کی اس سچائی پر مبنی اور مخلصانہ نصیحت کو فراموش نہیں کریں گے جس میں انہوں نے تمام مسلمانوں کو مخاطب قرار دے کر کہا ہے: "اسلام کی نجات کی خاطر ولایت (فقیہ) کے خیمے کو ترک نہ کریں۔ یہ خیمہ، رسول اللہ ص کا خیمہ ہے۔ اسلامی جمہوریہ سے دشمنوں کی دشمنی کی بنیاد اس خیمے کو نذر آتش کر کے نابود کرنے پر استوار ہے۔ اس خیمے کے گرد طواف کریں۔ خدا کی قسم، خدا کی قسم، خدا کی قسم اگر اس خیمے کو کوئی نقصان پہنچتا ہے تو بیت اللہ الحرام، حرم رسول خدا ص، نجف، کربلا، کاظمین، سامرا اور مشہد بھی باقی نہیں رہیں گے۔ قرآن کو نقصان پہنچے گا۔”


































