
تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
یہ تحریر ایران میں اسلامی انقلاب کے بانی حضرت آیت اللہ امام خمینی کی 36ویں برسی کی مناسبت پر امام خمینی (رح) کی یاد میں ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ایک ادنیٰ کوشش ہے۔ امام خمینی ؒ کی شخصیت کے متعدد پہلو ہیں، جن پر بات کرنے کے لئے درجنوں کیا بلکہ سیکڑوں کتابیں بھی کم ہیں۔ امام خمینی ؒ کی شخصیت ایک ہمہ جہت عالمگیر شخصیت ہے۔ امام خمینی ؒ نے آج سے پچاس سال قبل جن باتوں کا ذکر کیا، وہ باتیں آج بھی دنیا میں تحقق پذیر ہو رہی ہیں۔ مثال کے طور پر امام خمینی ؒ نے اس زمانے میں امریکہ کی سیاست کے بارے میں دنیا کو آگاہ کیا تھا کہ امریکہ دنیا کے دوسرے ممالک کی ترقی کا دشمن ہے، آج پور ی دنیا اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ سے دوسرے ممالک کی ترقی اور پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ دشمنی کی ہر حد کو عبور کرتی ہے اور دنیا کی دوسری ملتوں کی توہین کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق کو سلب کیا جاتا ہے۔
امام خمینی ؒ کی ایسی ہی ہزاروں باتوں میں سے ایک بات مسئلہ فلسطین سے متعلق ہے۔ امام خمینی ؒ نے پچاس سال قبل دنیا کو بتایا تھا کہ فلسطین پر قابض ہونے والی غاصب صیہونیوں کی ریاست اسرائیل کا مقصد صرف فلسطین پر قبضہ کرنا نہیں ہے، بلکہ فلسطین کے بعد لبنان، شام اور حتٰی کہ حجاز مقدس جیسے مسلمانوں کے تاریخی مقامات اور مقدسات والے ممالک پر قبضہ کرنا ہے۔ آج پوری دنیا اس بات کا مشاہدہ کر رہی ہے کہ کس طرح امریکہ اپنی اس ناجائز اولاد اسرائیل کے ذریعے فلسطین کے بعد اب خطے کی دیگر عرب ریاستوں کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ اپنے ناجائز قبضہ وک توسیع دے رہی ہے۔ امام خمینی ؒ نے سنہ 1979ء میں انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد جب فلسطینی تنظیم پی ایل او کے سربراہ یاسر عرفات ایران کے دورے پر آئے تو یہ امام خمینی ؒ ہی تھے، جنہوں نے اس زمانے میں فلسطینی عوام کو اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔
یعنی غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت کو جاری رکھنے کا درس دیا اور یہ کہا کہ اگر آج فلسطینی عوام اپنے حق کے لئے کھڑی ہو جائے اور قیام کرے تو پوری دنیا فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی۔ آج تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ سات اکتوبر سنہ2023ء کو فلسطینیوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو پوری دنیا کے عوام آج فلسطین کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں سے زیادہ بیداری غیر مسلم معاشروں میں آچکی ہے۔ آج یورپ اور مغربی حکومتیں اپنی عوام کے احتجاج کے سامنے بے بس ہیں۔ آج مغربی دنیا کے عوام اور پوری دنیا کے لوگ فلسطین کے حق میں کھڑے ہوچکے ہیں، جو کہ واضح طور پر امام خمینی ؒ کی اس پیشن گوئی کی حقیقت کو ثابت کر رہا ہے کہ جو انہوں نے پچاس سال پہلے کی تھی۔
اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امام خمینی ؒ نے نہ صرف ایران بلکہ مسلم دنیا کے اقوام کو سمجھایا کہ جی ہاں ہم کرسکتے ہیں، یعنی دشمن کے مقابلہ میں ترقی کے راستے پر گامزن ہوسکتے ہیں۔ ہم کرسکتے ہیں، یعنی ہمارے اندر اور ہمارے نوجوانوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ ہم ہر مشکل سے مشکل کام کو کرنے کی صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران پر عالمی استعماری نظام کی جانب سے ہزاروں پابندیوں کے باوجود آج ایران جوہری توانائی کے میدان میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ ایران جوہری توانائی کے استعمال اور پیدا کرنے والے چند ایک چیدہ چیدہ ممالک میں شمار ہو رہا ہے۔ یہ واقعی بہت بڑی کامیابی ہے، جو آج عالمی استعماری قوتوں کے مقابلہ میں ایران کے حصہ میں آئی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا ہے کہ امام خمینی ؒ نے اوائل ہی میں قوم اور ملت کو درس دیا کہ ہم کرسکتے ہیں، جبکہ دشمن یہ کہتا تھا کہ نہیں ہم نہیں کرسکتے، لیکن ایران میں باصلاحیت افراد نے اللہ کی مدد سے کر دکھایا ہے، جو کہ امام خمینی ؒ کی اس بات کو سچ ثابت کر رہا ہے کہ جو کچھ امام خمینیؒ نے کہا تھا، وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تحقق پذیر ہو رہا ہے۔
امام خمینی ؒ اکیسیوں صدی کے واحد رہنماء ہیں کہ جنہوں نے دنیا بھر میں دبائی گئی مظلوم اقوام کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی ہمت دی۔ لوگ تاریکی میں ڈوب چکے تھے، امام خمینی ؒ نے انہیں روشنیوں کی طرف رہنمائی کی۔ لوگ مشکلات میں پھنس چکے تھے، لیکن امام خمینی ؒ نے ان کے لئے ایک ایسے راستے کا تعین کیا، جس میں انہوں نے مشکلات کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا۔ دنیا امریکی بدمعاشی کے چنگل میں تھی، لیکن آج امام خمینی ؒ کے فلسفہ اورراستے کی بدولت امریکی حکومت کی طاقت اور گرفت روز بہ روز کمزور ہو رہی ہے اور یہ مزید کمزور تر ہوتی چلی جائے گی۔ یہ امام خمینی ؒ کی سیرت اور حقیقت ہے کہ جس نے نہ صرف ایران کے مسلمانوں کو بیدار کیا بلکہ فلسطین میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے سامنے فلسطینیوں کو ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا ہے۔ آج مقبوضہ فلسطین میں بسنے والے امام خمینی ؒ کو اپنا رہنماء اور پیشوا مانتے ہیں یہ ہے اصل انقلاب اسلامی، جو ایران میں امام خمینی ؒ کی قیادت میں شروع ہوا اور آج آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت میں سفر طے کرتا ہوا منزلیں طے کر رہا ہے۔
امام خمینی ؒ نے مظلوم اقوام کو ہمت دی کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور ظالم قوتوں کا مقابلہ کریں۔ آج افریقی و ایشیائی ممالک میں استعماری نظام کے مقابلہ میں مزاحمت کا اصل استعارہ امام خمینی ؒ کی ذات مقدس اور تعلیمات ہیں، جو انہوں نے عملی طور پر انجام دی ہیں۔ امام خمینیؒ ایک ایسی عظیم ہستی کا نام ہے، جن کو اللہ پر ایمان کے بعد اپنے لوگوں اور مومنین پر اعتماد تھا اور اسی طرح اپنے راستے پر کہ جو جدوجہد کا راستہ ہے، جس میں سستی اور کاہلی نہیں ہے اور ظالم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا ہے۔ لہذا یہی ایمان تھا، جس نے قیامت تک امام خمینی ؒ کو زندہ و جاوید کر دیا ہے۔ امام خمینی ؒ نے دنیا کو بیدار کیا اور آج بھی امام خمینی ؒ کی فکر اور نظریہ دنیا کو بیدار کر رہا ہے اور ظالم و فاسق حکومتوں کی بربادی کا اعلان ہے۔ امام خمینی ؒ یقیناً ایک زندہ اور جاوید حقیقت کا نام ہے، جو قیامت تک باقی رہے گا۔


































